مدینہ میں اسلام کا آغاز
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
تھی۔ اس جماعت کی بنیاد خاندانی اور قبائلی تعلقات پر نہ تھی بلکہ عقیدہ اور عمل پر تھی اور اسی نسبت سے اس کا نام امت مسلمہ تھا۔ یہ عقبہ جہاں حضرت محمد نے متواتر دو سال یثرب کے مسلمانوں سے بیعت لی، اپنی سابقہ شکل میں آج موجود نہیں ہے۔ البتہ وہاں ایک مسجد اب بھی بطور نشان موجود ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کی زبان میں دو اصطلاحیں داخل ہو گئیں ۔ ایک انصار، دوسرے مہاجرین ۔ انصار سے مراد مدینہ کے مسلمان تھے ۔ اور مہاجرین سے مراد مکہ کے مسلمان۔ شروع میں انصار کا لفظ ان مسلمانوں کے لیے بولا جاتا تھا جنہوں نے 622-621 میں حضرت محمد کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ۔ مگر بعد کو یہ لفظ مدینہ کے تمام مسلمانوں کے لیے بولا جانے لگا۔ یثرب کے مسلمان بیعت کے بعد اگلی صبح کو مکہ سے روانہ ہو گئے ۔ تین دن بعد قریش کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے تیز رفتار اونٹوں پر اپنے آدمی دوڑائے کہ انہیں پکڑ کر مکہ واپس لائیں۔ مگر وہ لوگ چونکہ راستہ بدل کر جا رہے تھے، تیز رفتار سوار انہیں پانے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ وہ لوگ خیریت کے ساتھ مدینہ پہنچ گئے ۔ اب حضرت محمد نے ہجرت کے فیصلے کے مطابق مکہ کے مسلمانوں سے کہہ دیا کہ وہ مکہ چھوڑ کر یثرب چلے جائیں اور وہاں اپنی قوت کو مجتمع کریں ۔ مسلمان چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بنا کر مکہ سے جانے لگے ۔ قریش بھی ان کی تاک میں لگ گئے ۔ ہاشم بن عاص کو عین روانگی کے وقت پکڑ لیا اور زنجیر میں باندھ کر شہر کے باہر صحراء میں ڈال دیا ۔ یہی اس زمانہ کی قید تھی ۔ کیوں کہ مکہ میں کوئی قید خانہ نہ تھا۔ عرب کا پہلا قید خانہ حضرت محمد کی وفات کے بعد کوفہ میں بنایا گیا ۔ انصار کو خبر ہوئی تو انہوں نے اپنے کچھ آدمی تیز رفتار اونٹوں پر سوار کر کے مکہ بھیجے جنہوں نے ہاشم کی زنجیریں کھولیں اور اونٹ پر سوار کر کے مدینہ لے گئے ۔ ہاشم کے بدن پر اس وقت ہڈی چمڑے کے سوا کچھ باقی نہ تھا۔ ایک مالدار مسلمان بنو جاش کے متعلق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader