سیرتِ رسول
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسے ہی معلوم ہوا کہ وہ یثرب چلے گئے، ابوسفیان نے ان کے بہت بڑے مکان پر قبضہ کر لیا۔ دوسرے مالدار مسلمان جو صہیب بن سنان رومی کے نام سے مشہور تھے ، ان کو قریش کے لوگوں نے پکڑا اور کہا کہ اے صہیب، جب تم مکہ آئے تو فقیر تھے۔ اس شہر میں سوداگری کر کے تم مالدار ہو گئے ہو۔ جو دولت تم نے یہاں جمع کی ہے اس کو لے کر ہم تمہیں جانے نہ دیں گے۔ صہیب نے ساری دولت ان کے حوالے کر دی اور خالی ہاتھ یثرب چلے گئے۔ اس طرح بالآخر مکہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا۔ اب صرف حضرت محمد اور ان کے دو قریبی ساتھی ابوبکر اور علی باقی رہ گئے۔ یا وہ کمزور اور نادار مسلمان جو قرآن کے الفاظ میں اس طرح دعائیں کرتے تھے: رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا (4:75)۔ مدینہ کی طرف ہجرت اب قریش کے لیے ضروری تھا کہ کوئی آخری تدبیر سوچیں کیوں کہ جس اسلام کو اب تک وہ کمزور سمجھ رہے تھے، وہ مدینہ میں پہنچ کر نئی اجتماعی طاقت حاصل کر رہا تھا۔ قریش اس وقت 10 قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ہر قبیلہ کی اپنی ایک مجلس شوریٰ ہوتی تھی جس کو النادی کہتے تھے۔ پھر پورے قریش کی ایک اجتماعی شوریٰ تھی جس کو دار الندوہ کہا جاتا تھا۔ اس میں ہر قبیلہ کی نادی کے سردار شریک ہوتے تھے۔ جب قریش کے سرداروں کو معلوم ہوا کہ مکہ سے یثرب کی طرف مسلمانوں کی ہجرت نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے تو انہوں نے دار الندوہ کا خصوصی اجلاس کیا جس میں تمام سردار شریک ہوئے۔ مسئلہ یہ تھا کہ موجود صورت حال سے نمٹنے کے لیے کیا کیا جائے۔ پہلی تجویز یہ تھی کہ حضرت محمد کو ہاشم بن عاص کی طرح قید میں ڈال دیا جائے۔ یعنی زنجیروں میں باندھ کر انہیں جنگل میں چھوڑ دیا جائے۔ مگر اس میں یہ اندیشہ محسوس ہوا کہ مدینہ کے مسلمانوں کو یہ بات معلوم ہو جائے گی۔ وہ آئیں گے اور حضرت محمد کو اسی طرح آزاد کر لیں گے جس طرح انہوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader