مدینہ کی طرف ہجرت
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
نے ہاشم کو آزاد کر لیا ہے۔ پھر یہ تجویز ہوئی کہ حضرت محمد کو مکہ سے نکال دیا جائے، یہ بھی اصل مسئلہ کا حل نہیں تھا۔ کیوں کہ اندیشہ تھا کہ مکہ سے نکلنے کے بعد حضرت محمد یثرب چلے جائیں گے اور وہاں اپنی طاقت یکجا کر کے ہمارے لیے ایک نیا مسئلہ بن جائیں گے۔ آخر ابو جہل کی تجویز کے مطابق طے ہوا کہ حضرت محمد کو قتل کر دیا جائے۔ قدیم عرب میں کسی شخص کو قتل کر دینا نہ مذہبی اعتبار سے برا سمجھا جاتا تھا نہ اخلاقی اعتبار سے۔ صرف مال کا نقصان تھا۔ کیوں کہ قاتل کو مقتول کے وارثوں کو دیت دینا پڑتا تھا۔ جو شخص حضرت محمد کی حمایت کرتا تھا، اس کو بھی قریش نے راضی کر لیا تھا کہ وہ آپ کا ساتھ چھوڑ دے اور مزید آپ کی حمایت نہ کرے۔ چنانچہ دار الندوہ کے ارکان نے حضرت محمد کے قتل کا قطعی فیصلہ کر لیا۔ طے یہ ہوا کہ قریش کے دس قبیلے کے افراد مل کر حضرت محمد کو قتل کریں اور قبیلہ ہاشم کا سردار بھی اس میں شرکت کرے تا کہ خوں بہایا کسی سے جنگ کا کوئی اندیشہ نہ رہے۔ قاتلوں کی فہرست بھی اس وقت تیار کر لی گئی۔ حضرت محمد کی ایک پھوپھی تھیں جن کا نام رقیہ بنت ابی سیف تھا۔ اللہ کی مدد سے انہیں اس بات کا پتہ چل گیا کہ قریش نے پیغمبر اسلام کے قتل کا ارادہ کر لیا ہے۔ وہ لوگ کل رات کو صبح سے پہلے حضرت محمد کے گھر کو گھیر لیں گے۔ منصوبہ یہ ہے کہ سب ایک ساتھ حضرت محمد پر حملہ کر دیں اور تلوار سے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں۔ رقیہ خاموشی سے آپ کے پاس آئیں اور کہا کہ فوراً کوئی تدبیر کرو۔ حضرت محمد اسی وقت ابو بکر کے گھر پہنچے اور سارا قصہ بیان کیا۔ ابو بکر نے کہا کہ اس مقصد کے لیے میں نے پہلے سے دو تیز رفتار سفید اونٹیاں تیار کر رکھی ہیں، ان میں سے ایک کو آپ قبول کر لیں۔ ابو بکر کی صاحبزادی اسماء نے راستہ کے لیے کچھ کھانے پینے کی چیزیں تیار کیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader