مدینہ کی طرف ہجرت
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اسے ایک تھیلے میں رکھا۔ تھیلے کا منہ باندھنے کے لیے کوئی رسی بروقت نہ ملی تو اسماء نے اپنی پٹکہ کمر سے کھولا اور اس کے دو ٹکڑے کر کے ایک ٹکڑے سے تھیلے کا منہ باندھا اور دوسرے کو اپنی کمر میں لگالیا۔ اس وجہ سے ان کا نام اسلامی تاریخ میں ذات النطاقین (دوپٹکوں والی) پڑ گیا۔ اس کے بعد حضرت محمد اپنے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب سے ملے۔ ان کو پوری صورت حال بتا کر آپ نے کہا کہ آج میں یہاں سے روانہ ہو جاؤں گا۔ تم یہ کرو کہ میری چادر پہن لو اور تمام دن میرے گھر میں رہو۔ رات کو میرے بستر پر سو جانا۔ اس تدبیر کا ایک مقصد یہ تھا کہ اہل مکہ یہ سمجھیں کہ حضرت محمد گھر کے اندر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس مکہ کے لوگوں کی امانتیں بھی تھیں۔ آپ نے یہ انتظام کیا کہ آپ کے جانے کے بعد یہ امانتیں علی بن ابی طالب اس کے مالکوں کو واپس کر دیں۔ سفر کا نقشہ اس طرح تیار کیا گیا کہ اندھیرا ہوتے ہی حضرت محمد اور ابو بکر مکہ سے روانہ ہو کر ثور نامی پہاڑ کے غار میں پہنچ جائیں اور چند دن وہاں قیام کریں۔ کیوں کہ جب قریش حضرت محمد کی مکہ سے روانگی کی خبر سنیں گے تو یقیناً تیز اونٹوں پر سوار ہو کر مکہ کے چاروں طرف دوڑیں گے کہ آپ کو تلاش کریں۔ اس لیے چند دن غار میں ٹھہر کر آپ اس وقت آگے روانہ ہوں جب کہ قریش مایوس ہو کر اپنی تلاش ختم کر چکے ہوں۔ اس وقت دو سفید اونٹنیاں غار کے پاس پہنچا دی جائیں اور آپ دونوں اس پر سوار ہو کر یثرب کے لیے تیزی سے روانہ ہو جائیں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق ، مکہ کے سرداروں نے رات کے پچھلے پہر آپ کے مکان کو گھیر لیا۔ گھر کے اندر گھس کر زنان خانہ میں قتل کرنا عرب غیرت کے خلاف تھا، اس لیے وہ صبح کا انتظار کرتے رہے کہ آپ باہر نکلیں تو وہ اجتماعی حملہ کر کے آپ کو قتل کر ڈالیں۔ صبح ہوئی تو گھر کے اندر سے ایک شخص برآمد ہوا مگر یہ حضرت محمد نہ تھے بلکہ آپ کے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب تھے۔ سرداروں کو جب معلوم ہوا کہ حضرت محمد اس گھر کے اندر نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader