Urdu book · سیرتِ رسول

مدینہ کی طرف ہجرت

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

تو وہ آپ کے ساتھی ابو بکر کے گھر پہنچے ۔ وہاں ابو بکر کی صاحبزادی اسماء تھیں ۔ پوچھ گچھ کے بعد جب ان سے بھی کچھ معلوم نہ ہوا تو ان کو ایک تھپڑ مارا اور برا بھلا کہتے ہوئے چلے گئے۔ حضرت محمد اور ابو بکر دونوں مکہ سے پیدل روانہ ہو کر تین میل کے فاصلہ پر ثور نامی پہاڑ کے پاس پہنچے اور یہاں ایک غار میں چپ کر بیٹھ گئے۔ ابو بکر کے لڑکے عبد اللہ کے ذمہ یہ کام سپرد ہوا کہ وہ دن بھر مکہ میں رہیں اور وہاں کے لوگ جو کچھ کر رہے ہوں ، اس کی اطلاع رات کے وقت آکر غار میں پہنچا دیں۔ ابو بکر کے غلام عامر بن فہیرہ دن بھر ادھر اُدھر بکریاں چراتے اور رات کے وقت ان کو ہنکا کر غار کے پاس لاتے اور دونوں کو دودھ پلا کر چلے جاتے۔ ابو بکر کی صاحبزادی اسماء کھانا پکا کر رات کو غار میں پہنچا آتیں۔ ادھر مکہ والوں نے حضرت محمد کی تلاش میں دوڑ دھوپ شروع کردی ۔ مکہ میں اعلان کر دیا کہ جو شخص حضرت محمد کو پکڑ کر لائے گا اس کو سو اونٹ انعام دیئے جائیں گے۔ قریش کے کئی لوگ تیز رفتار اونٹوں پر دوڑتے ہوئے غار ثور سے بھی گزرے مگر وہ اس میں داخل نہ ہو سکے۔ کہا جاتا ہے کہ غار ثور میں آپ کے داخل ہونے کے بعد ہبوط (landslide) کا ایک واقعہ ہوا جس کی وجہ سے غار کا منھ بند ہوگیا۔ باہر سے دیکھنے والا یہ شبہ نہیں کر سکتا تھا کہ اس کے اندر کوئی انسان موجود ہے۔ حضرت محمد اور ابو بکر تین دن تک اس غار میں رہے۔ اس کے بعد منصوبہ کے مطابق، عبد اللہ بن اُریقط دو سفید اونٹیاں لے کر غارِ ثور پر آ گیا۔ عبد اللہ بن اُریقط ایک غیر مسلم تھا جو خریط (ریگستانی راستوں کا ماہر تھا اور عرب کے جغرافیہ کو بخوبی جانتا تھا۔ اس سے آپ نے اجرت پر معاملہ طے کیا کہ وہ آپ کو غیر معروف راستوں پر چلا کر مکہ سے مدینہ پہنچائے۔ حضرت محمد اور ابو بکر اونٹیوں پر سوار ہو کر آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ چونکہ اس بات کا خوف تھا کہ تعاقب کرنے والے راستہ میں پکڑ لیں گے، آپ نے عام راستہ کو چھوڑ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page