مدینہ کی طرف ہجرت
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ سمندر کے کنارے سفر شروع کیا۔ دو انسانوں کا یہ قافلہ اس حال میں روانہ ہوا کہ دونوں کے پاؤں میں نہ جوتے تھے اور نہ جسم پر پورے کپڑے۔ راستہ میں ایک شخص ملا۔ اس نے ابو بکر کو خطاب کرتے ہوئے پوچھا تم کون ہو۔ آپ نے ایک نام بتایا۔ اس کے بعد حضرت محمد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہ دوسرا کون ہے، ابو بکر نے جواب دیا: رَجُلٌ يَهْدِيْنِي السَّبِيْلَ (فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل، حدیث نمبر 605)۔ یعنی، ایک آدمی جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے۔ قبیلہ بنی مدلج کا سردار سراقہ بن جعشم اپنے خیمہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور اس سے کہا’’اے سراقہ، میں نے آج دو اونٹ سوار دیکھے ہیں۔ وہ سفید اونٹوں پر سوار تھے اور دریا کے کنارے کنارے جا رہے تھے۔ میرا خیال ہے کہ ان میں سے ایک شخص محمد ہیں۔‘‘ سراقہ اپنے چند لوگوں کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہوا اور بتائے ہوئے نشان پر چل پڑا تا کہ حضرت محمد کو پکڑ لے اور قریش سے ایک سو اونٹوں کا انعام حاصل کرے۔ سراقہ چونکہ گھوڑے پر سوار تھا، وہ تیزی سے چل کر حضرت محمد کے قریب پہنچ گیا۔ مگر عین اس وقت جب کہ وہ گھوڑے کو ایڑ لگاتا کہ حضرت محمد پر جا پڑنا چاہتا تھا، اس کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔ اس نے تیروں سے فال نکالی کہ حملہ کرنا چاہیے یا نہیں، جواب میں انکار آیا۔ اب وہ گھوڑے سے اتر پڑا اور فریاد کرنے لگا۔ اس نے کہا مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہی حق پر ہیں۔ آپ ضرور ایک دن قریش پر غالب آئیں گے۔ حضرت محمد نے پوچھا تم کیا چاہتے ہو۔ سراقہ نے کہا، میں چاہتا ہوں کہ جب آپ قریش پر غالب ہوں تو مجھ کو اور میرے قبیلہ کو قتل نہ کریں۔ آپ نے اس کو امان نامہ لکھ کر دیا۔ حضرت محمد چلتے ہوئے ستمبر 622ء میں یثرب کے قریب قبا ءکی بستی میں پہنچ گئے۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ اور نبوت کا تیرہواں سال تھا۔ اسی سال سے اسلامی تاریخ میں ہجری کلینڈر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader