Urdu book · سیرتِ رسول

سیرتِ رسول

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

کا آغاز ہوتا ہے۔ قباء مدینہ کے جنوب میں ہے اور حومہ کا جز ء شار ہوتا ہے۔ مدینہ میں داخلہ قباء مدینہ سے 3 میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں آپ ابتداء ایک کھجور کے باغ میں اترے۔ قباء کے مسلمان اور یہودی باشندے آکر آپ کے پاس جمع ہونے لگے۔ مگر انہیں معلوم نہ تھا کہ حضرت محمد کون ہیں۔ ابو بکر چونکہ حضرت محمد سے تین سال بڑے تھے، انہیں گمان ہوا کہ لوگ کہیں یہ سمجھنے میں غلطی نہ کر جائیں پیغمبر کون ہے۔ انہوں نے اپنی چادر ، جس کو انہوں نے زبیر بن العوام سے لیا تھا، سائبان کی طرح حضرت محمد کے اوپر پھیلا دیا جو اس وقت ایک کھجور کے درخت کے ناکافی سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اب لوگوں نے پیغمبر کو پہچان لیا اور عرب رواج کے مطابق آپ کو خوش آمدید کہنے کے لیے شور مچانے لگے۔ اس کے بعد بنی عمروبن عوف کے سردار کلثوم بن الہدام نے اپنے گھر چلنے کی درخواست کی۔ حضرت محمد نے کہا ہم کسی کو زحمت نہیں دینا چاہتے۔ کلثوم نے کہا ہمارے گھر میں ایک کمرہ خالی ہے، اس میں کوئی نہیں رہتا، آپ اور ابو بکر اس میں چل کر قیام کریں۔ ہم آپ کے اونٹوں کی حفاظت کریں گے اور ان کا پیٹ بھریں گے ۔ اب آپ وہاں چلے گئے۔ مگر جلد ہی مدینہ کے مسلمان آپ سے ملنے کے لیے کثرت سے آگئے اور اس کمرہ میں سمائی نہ رہی ۔ اس کے بعد سعد بن خیثمہ نے اپنا مکان پیش کیا جو کافی بڑا تھا۔ چنانچہ آپ دن کو اس مکان میں رہنے لگے۔ البتہ رات کو سونے کے لیے کلثوم کے گھر میں آجاتے۔ قباء میں پہنچنے کے تیسرے دن حضرت محمد نے ارادہ کیا کہ وہاں مسجد بنائیں۔ یہ اسلام کی سب سے پہلی مسجد تھی۔ ایک مسلمان نے حضرت محمد کو مسجد کے لیے زمین پیش کی۔ مگر پیغمبر اسلام نے ہدیہ قبول نہ کیا اور قیمت دے کر اس کو خرید لیا۔ اس مسجد کو بنانے میں تمام مسلمانوں نے حصہ لیا۔ حضرت محمد خود بھی ابو بکر کے ساتھ مٹی کا گارا بناتے تھے اور پتھروں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page