Urdu book · سیرتِ رسول

مدینہ میں داخلہ

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

اٹھاتے اور ردے جماتے تھے۔ عمر بن خطاب ، جو کبھی مکہ کے معزز ترین لوگوں میں تھے، اپنے کندھوں پر پتھر ڈھوتے اور مٹی سے بھرا ہوا برتن اٹھا کراتے۔ اس طرح تمام مسلمان اس کے بنانے میں شریک رہے۔ حضرت محمد نے قبا میں تقریبا ایک ہفتہ تک قیام کیا اور جب مسجد مکمل ہوگئ تو وہاں سے چل کر یثرب آئے۔ یثرب اس وقت تک دو ناموں سے مشہور تھا، یثرب اور طیبہ۔ حضرت محمد کے آنے کے بعد وہ مدینۃ النبی (نبی کا شہر) کہا گیا اور مختصر ہو کر مدینہ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ جب حضرت محمد مدینہ میں داخل ہوئے، اس وقت مدینہ کا رقبہ تقریباً 30 مربع کلومیٹر تھا۔ اس شہر میں گھروں کے علاوہ 72 قلعے تھے جن میں 59 قلعے یہودیوں کے تھے اور 13 عربوں کے۔ اس کے شمال اور جنوب میں دو پہاڑ واقع تھے جو اب بھی موجود ہیں۔ مدینہ کے باشندے تقریباً نصف عربی تھے اور نصف یہودی۔ عرب باشندوں کا پیشہ کاشتکاری، جانور پالنا اور تجارت کرنا تھا۔ یہودی کاشتکاری، زرگری، گوہر فروشی، دباشی کے ذریعہ اپنی روزی حاصل کرتے تھے۔ اس زمانہ میں عربوں کے پاس اپنا سکہ نہ تھا۔ مکہ مدینہ میں ایرانی اور رومی سکے رائج تھے۔ رومی سکہ کو دینار ہر قلی کہتے تھے اور ایرانی سکہ کو دینار خسروی۔ حضرت محمد نے قبا میں جو مسجد بنائ، اس کا محراب بیت المقدس کی طرف تھا۔ اس وقت حضرت محمد اور آپ کے ساتھی بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اس سے یہودیوں کو یہ امید ہوگئی کہ آپ ان کا مذہب تسلیم کر لیں گے۔ ان کو مزید یقین اس بات سے ہوتا تھا کہ قرآن میں یہودی نسل کے انبیاء ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ وغیرہ کا ذکر اسی احترام کے ساتھ کیا گیا ہے جس طرح یہودی ان کو مانتے ہیں۔ مگر قبا میں اجتماعی عبادت کا دن جب آپ نے جمعہ کو مقرر فرمایا تو یہودیوں کو مایوسی ہوئی۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ آپ یہودیوں کا دن (سینچر) کو اجتماعی عبادت کے لیے اختیار کریں گے۔ اس کے بعد کچھ یہودی علماء نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page