مدینہ میں داخلہ
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ سے گفتگو کی اور کہا کہ اگر پیغمبر ہونا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو یہودی ہونا چاہیے ۔ کیونکہ خدا یہودی قوم کے واسطہ ہی سے کلام کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی نظر میں قومیں برابر ہیں۔ وہ جس کو چاہے پیغمبریکی کے لیے منتخب کرے۔ قباء کے یہودی باشندے اسلام کی طرف راغب نہیں ہوئے۔ صرف ایک یہودی نے اسلام قبول کیا جس کا نام سلوم تھا۔ یہ وہی شخص ہے جس نے قباء کے قریب آپ کی آمد کو سب سے پہلے دیکھا تھا اور قباء کے باشندوں کو اطلاع دی تھی کہ پیغمبر اسلام ہجرت کر کے یہاں پہنچ گئے ہیں۔ حضرت محمد کی اونٹنی مدینہ میں داخل ہوئی تو یہاں کے لوگ پہلے سے آپ کے استقبال کے لیے تیار تھے۔ لوگ آپ کی اونٹنی کی طرف دوڑتے ، اونٹنی کی نکیل پکڑتے اور حضرت محمد سے کہتے کہ ہمارے گھر چلیے۔ آپ نے فرمایا کہ میری اونٹنی کی نکیل چھوڑ دو، میری اونٹنی خود ہی مجھے ایسی جگہ لے جائے گی جہاں خدا کی مرضی ہے۔ اونٹنی چلتی رہی ۔ یہاں تک کہ ایک ایسی جگہ جا کر رک گئی جہاں کوئی مکان نہ تھا۔ آپ نے پوچھا یہ زمین کس کی ہے۔ اسعد بن زرارہ نے کہا یہ زمین دو کم سن یتیموں کی ہے اور میں اس کا سر پرست ہوں۔ یہ زمین آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ آپ اس میں گھر اور مسجد بنائیں ۔ آپ نے خریداری پر اصرار کیا تو اسعد بن زرارہ نے اس کی قیمت سات دینار بتائی۔ آپ نے کچھ اضافہ کے ساتھ دینار دے کر اس زمین کو خرید لیا۔ یہ دینار ابو بکر نے آپ کی طرف سے ادا کیے۔ اس زمانہ میں مکہ یا مدینہ میں سکے رائج نہ تھے۔ دونوں جگہ جو سکے رائج تھے وہ ایرانی یا رومی تھے۔ رومی حکومت کا پایہ تخت بیزنطین تھا جس کو آج کل استنبول کہتے ہیں۔ دینار سونے کا سکہ ہوتا تھا۔ ایرانی دینار کو دینار خس رواں کہتے تھے اور رومی کو دینار ہر قلی۔ اگلے دن حضرت محمد نے مسلمانوں کی مدد سے اس جگہ مدینہ کی پہلی مسجد بنانی شروع کی ۔ پیغمبر سمیت تمام لوگ گارا بناتے اور مٹی اور پتھر اٹھا کر لے آتے۔ اس مسجد کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader