مدینہ میں داخلہ
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
دیواریں پتھر کی تھیں اور چھت کو کھجور کے تنوں اور پتوں (جريد) سے ڈھانک دیا۔ اس مسجد کو بنانے میں سات مہینے لگے۔ اس مسجد کا قبلہ بھی بیت المقدس کی طرف بنایا گیا۔ کیونکہ اس وقت تک کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم نہیں آیا تھا۔ مدینہ میں حضرت محمد جہاں اپنے اونٹ سے اترے، اس سے سب سے قریب کا مکان ابوالایوب خالد بن زید کا تھا جو اپنی ماں کی طرف سے حضرت محمد کے رشتہ دار بھی ہوتے تھے۔ ابوالایوب نے اصرار کیا کہ آپ میرے مکان پر چل کر قیام کریں۔ آپ نے کہا کہ میں ایک شرط پر چل سکتا ہوں کہ رات تمہارے یہاں بسر کروں مگر کھانے کا بوجھ تمہارے اوپر نہ ہو۔ ابوالایوب نے کہا، اے محمد ! آپ کتنا کھائیں گے کہ مجھ پر بوجھ پڑے گا۔ حضرت محمد نے کہا، میں جتنا بھی کھاؤں، مگر تمہارے اوپر اس کی ذمہ داری نہیں ڈالوں گا۔ جب ابوالایوب نے دیکھا کہ حضرت محمد کھانا نہ کھانے پر اصرار کر رہے ہیں تو انہوں نے اس کو منظور کر لیا۔ حضرت محمد تقریباً سات مہینے ابوالایوب انصاری کے مکان میں رہے۔ ابوالایوب کا مکان دومنزلہ تھا۔ دیواریں کچی تھیں اور چھت کھجور کے پتوں کی تھی، اوپر ذرا سا بھی دھما کہ ہوتا تو نیچے مٹی جھڑتی تھی۔ اس لیے ابوالایوب نے اوپر کا حصہ حضرت محمد کے رہنے کے لیے تجویز کیا۔ مگر آپ نے آنے جانے والوں کی آسانی کے لیے نچلی منزل پسند کی۔ ابوالایوب انصاری کا خاندان اوپری چھت پر رہتا تھا۔ ایک روز اتفاق سے ان کے پانی کا برتن ٹوٹ گیا، چھت معمولی تھی۔ اندیشہ ہوا کہ پانی ٹپک کر نیچے گرے گا اور حضرت محمد کو تکلیف ہوگی۔ گھر میں اوڑھنے کے لیے ایک لحاف تھا، انہوں نے اس لحاف کو پانی پر ڈال دیا تاکہ وہ اسے جذب کرلے (سیرة ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 276)۔ جب مدینہ کی مسجد بن گئی تو اس کے گرد حجرے بنا دیے گئے، آپ اپنے خاندان سمیت ان حجروں میں جاکر رہنے لگے۔ ابوالایوب انصاری کے یہاں قیام کے زمانہ میں حضرت محمد نے زید بن حارثہ اور ابورافع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader