مدینہ میں داخلہ
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
کو دو اونٹ اور پانچ سود رہم دے کر مکہ بھیجا کہ وہ آپ کے گھر والوں کو مکہ سے مدینہ لے کر آئیں۔ حضرت محمد کی چار بیٹیاں تھیں، فاطمہ، ام کلثوم، رقیہ اور زینب۔ رقیہ اپنے شوہر عثمان کے ساتھ مدینہ آچکی تھیں ۔ دوسری تین لڑکیاں مکہ میں ہی تھیں۔ یہ لوگ فاطمہ اور ام کلثوم اور آپ کی بیوی سودہ بنت زمعہ، اسامہ بن زید اور ان کی زوجہ ام ایمن کو لے کر آگئے۔ آپ کی تیسری لڑکی زینب کو ان کے غیر مسلم شوہر ابو العاص نے آنے نہ دیا۔ حضرت ابو بکر کے لڑکے عبداللہ اپنی بہن عائشہ اور اپنے دوسرے گھر والوں کو لے کر مدینہ آگئے۔ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ آنے والوں میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے پاس رہنے اور سونے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ حضرت محمد نے ان کے لیے مسجد سے ملا ہوا ایک چبوترا بنوادیا اور اس کے اوپر کھجور کی شاخوں اور پتوں کا ایک سائبان (صفہ) ڈال دیا۔ اس سائبان میں رہنے والے اسلامی تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ صفہ نہ صرف بے گھروں کے لیے گھر تھا بلکہ وہ اسلام کا پہلا مدرسہ بھی تھا جہاں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت ہوتی تھی۔ ابو ہریرہ بھی انہیں اصحاب صفہ میں سے ایک تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ستر اصحاب صفہ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس لمبی چادر نہ تھی۔ یا صرف تہمد ہوتی تھی یا صرف چھوٹی چادر جس کا ایک سرا وہ اپنی گردن سے باندھ لیتے تھے اور دوسرا ہاتھ سے تھامے رہتے تھے کہ کہیں ستر نہ کھل جائے ۔ یہ چادر کسی کی آدھی پنڈلیوں تک پہنچتی تھی اور کسی کے ٹخنوں تک ۔ وہ اپنی بے سروسامانی کی وجہ سے زراعت یا تجارت بھی نہ کر سکتے تھے، ان میں سے کچھ لوگ جنگل کی طرف چلے جاتے اور وہاں سے لکڑیاں لاتے ۔ جس کو بیچ کر وہ اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیے پیٹ بھرنے کا سامان مہیا کرتے ۔ کبھی کسی مال دار مسلمان کے یہاں سے کھانے کا انتظام ہو جاتا ۔ ایک بار حضرت محمد نے صفہ والوں سے کہا: ”اے اہل صفہ تم کو بشارت ہو، میری امت میں جو کوئی محتاجی میں صبر و شکر کی زندگی اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader