Urdu book · سیرتِ رسول

مدینہ میں داخلہ

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

طرح گزارے گا جس طرح تم کرتے ہو، وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا‘۔ کہا جاتا ہے کہ صفہ میں جو لوگ مختلف وقتوں میں مقیم رہے، ان کی مجموعی تعداد تقریباً چار سو ہے۔ حضرت محمد نے اپنے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب کے ساتھ مواخات کا معاملہ کیا۔ آپ نے کہا، اے علی، ہم دونوں کے لیے ایک دن تم روزی کماؤ اور دوسرے دن میں کماؤں گا۔ علی نے کہا، اے خدا کے رسول، مسجد میں آپ کا موجود رہنا ضروری ہے تا کہ آپ مسجد کا انتظام کریں اور مسلمانوں کے مسائل کا جواب دیں۔ میں تنہا دونوں کی روزی کے لیے کام کروں گا۔ حضرت محمد نے تجویز قبول کر لی۔ علی روزانہ صبح کو روزی کمانے کے لیے نکل جاتے۔ اس زمانہ میں مدینہ کے ایک مال دار آدمی کا مکان تیار ہو رہا تھا۔ علی اس کے گارے کے لیے پانی ڈھوتے تھے۔ مکان اور کنواں کے درمیان اتنا فاصلہ تھا کہ علی صبح سے شام تک سولہ ڈول سے زیادہ پانی نہ لاپاتے تھے۔ پانی کے ہر ڈول کے لیے ایک خرما کی مزدوری مقرر تھی ۔ علی کی دن بھر کی مزدوری سولہ خرما ہوتی تھی جس کا آدھا یعنی آٹھ خرما حضرت محمد کو دیتے اور آٹھ خرما خود کھاتے۔ دونوں اسی طرح عرصہ تک آٹھ خرما پر زندگی گزارتے رہے۔ مکہ کے مسلمان (مہاجرین) اپنے گھر اور مال کو چھوڑ کر مدینہ پہنچے تھے۔ حضرت محمد نے مدینہ کے مسلمانوں (انصار) سے کہا کہ ایک انصاری ایک مہاجر کو اپنا بھائی بنا لے ۔ اپنے مکان میں رکھے اور دونوں ساتھ ساتھ روزی کمائیں۔ جب مکہ کے مسلمانوں خود اپنا انتظام کر لیں گے تو وہ علیحدہ ہو جائیں گے۔ انصار نے خوشی خوشی آپ کی تجویز مان لی۔ مدینہ آنے کے پانچویں مہینہ مہاجرین وانصار سے یہ عہد مواخات لیا گیا۔ آپ یکساں ذوق اور حالات والے ایک مہاجر اور ایک انصاری کو بلاتے اور کہتے’’تم دونوں بھائی بھائی ہو‘‘۔ اس کے بعد یہ دونوں اس طرح بھائی بھائی بن جاتے کہ نہ صرف گھر اور جائیداد میں شریک ہو جاتے بلکہ مرنے کے بعد زندہ رہنے والے کو اپنے بھائی کا ورثہ ملتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page