سیرتِ رسول
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح ایک سو چھیاسی مہاجروں نے مدینہ کے مسلمانوں کے ساتھ مواخات کرلی اور ان کے گھروں میں رہنے لگے۔ عہد مواخات کے بعد انصاری بھائی نے اپنی زمین، باغ، مکان، اثاث البیت، ہر چیز کا نصف حصہ اپنے مہاجر بھائی کو پیش کیا۔ سعد بن ربیع ایک مال دار انصاری تھے۔ عبدالرحمن بن عوف ان کے بھائی ہوئے ۔ وہ عبدالرحمن بن عوف کو اپنے گھر لے گئے اور اپنا سب مال واسباب پیش کرکے کہا کہ ان میں سے آدھا آپ لے لیجیے‘۔ یہ بھی کہا کہ میری دو بیویاں ہیں، ان میں سے ایک کو پسند کر لیجیے ۔ میں اس کو طلاق دے دوں گا، آپ اس سے نکاح کر لیں‘۔ عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ مجھے تو تم صرف بازار کا راستہ بتا دو۔ وہ بنی قینقاع کے بازار میں گئے اور گھی اور پنیر کا کاروبار شروع کیا۔ ان کے کاروبار میں اس قدر برکت ہوئی کہ ان کا اسباب تجارت سات سو اونٹوں پر لاد کر آتا تھا۔ ایک روز وہ حضرت محمد کے پاس آئے تو کپڑوں سے خوشبو آرہی تھی۔ آپ نے پوچھا تو بتایا کہ ایک انصاری عورت سے شادی کرلی ہے۔ آپ نے ان کو ولیمہ کرنے کا حکم دیا۔ ’’مواخات‘‘ کا قانونی رشتہ بعد کو ختم کر دیا گیا۔ جب مہاجرین نے مدینہ میں اپنی جگہ بنالی اور یہودیوں کے چھوڑے ہوئے باغات ومکانات میں ان کو حصے ملے تو اس کی ضرورت نہیں رہی۔ مسجد کی تعمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو سب سے پہلے آپ قبا ء میں ٹھہرے ۔ قبا ء ایک آبادی کا نام ہے جو مدینہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے۔ قبا ء میں سب سے زیادہ ممتاز خاندان عمر بن عوف کا تھا۔ اس کے سردار کا نام کلثوم بن ہدم تھا۔ آپ نے قبا ء پہنچ کر کلثوم بن ہدم کے گھر پر قیام کیا۔ قبا ء میں پہنچ کر آپ نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ یہاں آپ نے ایک مسجد کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader