آغازِ کلام
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
احتجاجی اور مطالبا تی مہم چلانا، ایسے جھگڑے کھڑے کرنا جس کے نتیجہ میں داعی اور مدعو کے درمیان تعلقات خراب ہو جائیں۔ اس طرح کی تمام سرگرمیاں دعوت کی فضا کو بگاڑتی ہیں۔ وہ دعوت ونصحیحمت کی قاتل ہیں۔ مگر ساری دنیا کے مسلمان ہر روز انہیں دعوت کش سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ اصاغر تو درکنار، ان کے اکابر بھی یہ سوچ نہیں پاتے کہ ایسا کر کے وہ اپنے خلاف خدا کے غضب کو بھڑکارہے ہیں۔ انہیں دعوت کش سرگرمیوں میں سے ایک سرگرمی وہ ہے جو ’’شتم رسول‘‘ کے خلاف مسلمان ہر جگہ جاری کیے ہوئے ہیں۔ اور جس کا ایک نمایاں مظاہرہ سلمان رشدی کی کتاب (شیطانی آیات) کی اشاعت کے بعد 1989 میں سامنے آیا ہے۔ اینٹی رشدی ایجی ٹیشن بلاشبہ لغویت کی حد تک غیر اسلامی تھا۔ اس کے باوجود وہ مسلمانوں کے اصاغر و اکابر کے درمیان اس لیے جاری رہا کہ دعوتی شعور سے محرومی کی بنا پر انھوں نے وہ کسوٹی کھودی تھی جس پر جانچ کر وہ معلوم کر سکیں کہ ان کی کون سی روش اسلام کے مطابق ہے، اور کون سی روش اسلام کے مطابق نہیں۔ مسلمانوں کے اوپر اپنے عقیدہ کے اعتبار سے لازم ہے کہ وہ داعی اور مدعو کی اصطلاحوں میں سوچیں۔ وہ اپنی انفرادی اور قومی سرگرمیوں کی تشکیل میں دعوت کو اصل معیار بنائیں ۔ وہ دعوت کی مصلحت کو تمام دوسری مصلحتوں پر مقدم رکھیں۔ وہ ہرقصان کو گوارہ کر لیں، مگر دعوت کا نقصان کسی قیمت پر گوارانہ کریں۔ مسلمانوں کے اس داعیانہ منصب کا لازمی تقاضہ ہے کہ وہ ہر گز کسی ایسی سرگرمی میں مبتلا نہ ہوں جو دعوت کے مزاج کے خلاف ہو، یا دعوت کے امکانات کو برباد کرنے والی ہو۔ اگر مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا تو یقینی طور پر خدا کے یہاں مجرم قرار پائیں گے، خواہ انھوں نے اپنے دعوت کش جلوس کا نام شوکت اسلام رکھ لیا ہو، اور خواہ اس کی قیادت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader