Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

زیادہ بڑی سزا

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

زیادہ بڑی سزا قدیم عرب میں شاعری کا وہی مقام تھا جو موجودہ زمانہ میں صحافت کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں کسی بات کو پھیلانا ہو تو اس کو اخبار میں چھاپ کر پھیلایا جاتا ہے۔ قدیم عرب میں یہی کام اشعار کے ذریعہ لیا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مکہ میں چند بڑے بڑے شاعر تھے، مثلاً کعب بن زہیر، عبداللہ بن الربعری اور ہبیرہ بن ابی وہب ۔ یہ لوگ اشعار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتے تھے اور آپ کو اذیت پہنچاتے۔ 8ھ میں مکہ فتح ہوا تو یہ لوگ سزا کے ڈر سے مکہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ہبیرہ کفر کی حالت میں مر گیا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 420)۔ بقیہ دونوں نے بعد کو اسلام قبول کر لیا۔ اس دونوں کی تفصیل آگے ذکر کی جا رہی ہے۔ جب یہ لوگ مکہ چھوڑ کر بھاگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا کہ ان کے پیچھے اپنے آدمی دوڑائیں۔ یا یہ اعلان کریں کہ جو شخص ان کو قتل کرے گا اس کو اتنا انعام دیا جائے گا۔ اس کے برعکس، آپ نے ان کو ہدایت کے لیے دعا کی اور ایسے حالات پیدا کرتے رہے جس سے ان کا ضمیر جاگ اٹھے اور وہ تو بہ کر کے اسلام کے دائرہ میں داخل ہو جائیں۔ اس سلسلہ میں تفصیلی واقعات سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ وہاں انہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ دونوں شاعروں نے بالآخر اسلام قبول کر لیا۔ اسی کے ساتھ انھوں نے اپنی شاعری کا رخ ہجو کے بجائے مدح کی طرف پھیر دیا۔ ان کا اسلام قبول کرنا ایک طرف خود ان کی اپنی زبان سے ان کی ماضی کی تردید تھی، دوسری طرف یہ ہوا کہ ان کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page