زیادہ بڑی سزا
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
اعلیٰ صلاحیتیں جو اس سے پہلے مخالف اسلام محاذ پر استعمال ہو رہی تھیں وہ اب حمایت اسلام محاذ پر استعمال ہونے لگیں۔ 1۔ کعب بن زہیر آخر وقت میں اپنے بھائی بجیر بن زہیر کی ترغیب پر مدینہ آئے تو انصار میں سے ایک شخص ان پر ٹوٹ پڑا اور کہا کہ اے خدا کے رسول مجھے اور اس دشمن خدا کو چھوڑ دیجیے کہ میں اس کی گردن مار دوں (یَارَسُوْلَ اللّٰہِ دَعْنِیْ وَعَدُوَّ اللّٰہِ أَضْرِبْ عُنُقَہ)۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ انصاری کو خاموش کر کے بٹھادیا۔ اور کعب بن زہیر کو قتل کرنے کے بجائے ان کے لیے دعا فرمائی۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 503) واقعات بتاتے ہیں کہ اس کے بعد کعب بن زہیر نے اسلام قبول کرلیا۔ کعب بن زہیر اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین ہجو گو شعراء میں سے تھے۔ مگر قبول اسلام کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدح خواں بن گئے۔ انھوں نے آپ کی مدح میں ایک شاندار قصیدہ لکھا جو قصیدہ بانت سعاد کے نام سے مشہور ہے۔ یہ قصیدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت میں ایک انتہائی ممتاز قصیدہ سمجھا جاتا ہے۔ ابن ہشام نے اپنی کتاب میں اس کے 59 شعر نقل کیے ہیں (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 513)۔ اس قصیدہ کا ایک مصرعہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے شک ایک نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے: اِنَّ الرَّسُوْلَ لَنُوْرٌ يُسْتَضَاءُ بِہِ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 512)۔ ایک شخص جو پیغمبر اسلام پر عیب لگا رہا تھا، اگر پیغمبر اسلام کی تعلیمات کی فاتحانہ طاقت اس طرح ظاہر ہو کہ وہ اس کو آپ پر ایمان لانے پر مجبور کر دے اور جو شخص اب تک آپ کی ہجو کر رہا تھا، وہ اپنی زبان سے یہ اعلان کرنے لگے کہ پیغمبر اسلام ہدایت کی روشنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader