Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

زیادہ بڑی سزا

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں، ان سے زندگی کے راستے روشن ہوتے ہیں، تو یہ بلاشبہ مذکورہ شخص کے قتل سے ہزار گنا زیادہ بڑا واقعہ ہے۔ یہ دشمن کی زبان سے پیغمبرِ اسلام کی صداقت کا اقرار ہے، اور بلاشبہ اس زمین پر اس سے بڑا کوئی واقعہ نہیں کہ دشمن اپنی زبان سے اپنے حریف کی صداقت کا اقرار کرے۔ 2۔ عبد اللہ بن الزبعری مکہ کے ممتاز شعراء میں سے تھا۔ وہ نہایت ذہین ہونے کے ساتھ نہایت گستاخ بھی تھا۔ مکی دور کا واقعہ ہے۔ قرآن میں یہ آیت اتری کہ تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو، سب کے سب جہنم کا ایندھن بنیں گے (21:98)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ والوں کے سامنے یہ آیت پڑھ کر سنائی تو عبد اللہ بن الزبعری نے کہا کہ اے محمد، کیا جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے، وہ سب اپنے پرستاروں کے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔ تو ہم لوگ فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ یہود عزیر پیغمبر کی عبادت کرتے ہیں اور نصاریٰ عیسیٰ بن مریم کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ بلاشبہ نہایت گستاخی کا فعل تھا۔ اپنے کلام کے ذریعہ اس نے خدا اور فرشتوں اور رسولوں کا مذاق اڑایا تھا۔ اور ان کی توہین کی تھی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو سن کر مشتعل نہیں ہوئے، اور نہ ہی اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ اس آدمی نے ناقابلِ معافی جرم کیا ہے، اس کو قتل کردالو۔ اس کے بجائے آپ نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا: جو کوئی یہ پسند کرے کہ اللہ کے سوا اس کی عبادت کی جائے تو وہ اسی کے ساتھ ہوگا جس نے عبادت کی: كُلُّ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَهُوَ مَعَ مَنْ عَبَدَهُ (تفسیر الطبری، جلد 16، صفحه 418)۔ ابن الزبعری نے واضح طور پر استہزاء اور اہانت کا جرم کیا تھا۔ مگر اس کے بعد آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page