زیادہ بڑی سزا
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
نے صرف یہ کیا کہ اس کو ایک ایسا معقول اور مدلل جواب دیا کہ اس کی بات بالکل بے وزن ہو کر رہ گئی۔ قتل صرف معترض کو ختم کرتا، مگر جوابی کلام نے معترض کا بھی خاتمہ کر دیا اور اسی کے ساتھ اس کے اعتراض کا بھی۔ 8ھ میں مکہ فتح ہوا تو عبد اللہ بن الزبعری بھاگ کر نجران چلا گیا۔ کیونکہ اس کا ضمیر اس سے کہہ رہا تھا کہ تم نے ایسا جرم کیا ہے کہ اندیشہ ہے کہ تم کو قتل کر دیے جاؤ۔ تاہم اس کا فرار اس کے لیے اطمینان کا سبب نہ بن سکا۔ اب وہ ایک ایسا انسان تھا جس نے یقین کھودیا ہو اور شک اور تردد کے دلدل میں کھڑا ہوا ہو۔ عبد اللہ بن الزبعری کے سلسلہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا کہ اس کے سر پر انعام مقرر کریں اور اپنے اصحاب سے کہیں کہ تم لوگ تلوار لے کر جاؤ اور جہاں بھی اس کو پاؤ، اسے قتل کر دو۔ اس کے برعکس، مسلمانوں کی طرف سے کوشش جاری رہی کہ اس کی سوئی ہوئی فطرت کو جگایا جائے ۔ اس سلسلہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے شاعر حسان بن ثابت الانصاری نے عبد اللہ بن الزبعری کے بارے میں کچھ تنبیہی اشعار کہے۔ یہ اشعار ابن الزبعری تک پہنچائے گئے۔ ان میں سے ایک شعر یہ تھا کہ تم ایسے آدمی (رسول) کو نہ کھوؤ جس کے بغض نے تم کو لے جا کر دور نجران میں ڈال دیا ہے، جہاں تم اپنوں سے الگ ہو کر غیر شریفانہ زندگی گزار رہے ہو: لَا تَعْدَمَنَّ رَجُلًا أَحَلَّكَ بُغْضُهُ نَجْرَانَ فِي عَيْشٍ أَخَذَّ لَئِيمِ ابن الزبعری کو یہ شعر تیر کی طرح لگا۔ اس کے بعد وہ نجران سے چل کر مدینہ آیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 1، صفحہ 391) قبولِ اسلام کے بعد اس نے بہت سے اشعار کہے۔ ان اشعار میں اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader