Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

زیادہ بڑی سزا

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

نے کھلے طور پر اپنی ماضی کی غلطی کا اعتراف کیا۔ پہلے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی تھی۔ اب وہ آپ کی اور آپ کے پیغام کی تعریف میں اشعار کہنے لگا۔ اس کے کچھ اشعار ابن ہشام نے اپنی کتاب میں نقل کیے ہیں۔ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 418) حقیقت یہ ہے کہ ہجو گو انسان کے اندر بھی ایک مدح گو انسان سویا ہوا ہوتا ہے۔ ہمارا اصل کام یہ ہے کہ اس مدح گو انسان کو جگائیں، جیسا کہ دورِ اول کے اہلِ ایمان نے جگایا۔ ہجو گو انسان کو قتل کرنا اگر ایک انتقامی عمل ہے، تو مدح گو انسان کو جگانا ایک داعیانہ عمل۔ اور اس میں شک نہیں کہ انتقامی عمل کے مقابلہ میں داعیانہ عمل کہیں زیادہ اعلیٰ اور افضل ہے۔ ایک شخص جو پیغمبرِ اسلام کا مذاق اڑائے یا آپ پر اعتراض کرے، اس کی یہ سزا بالکل بے فائدہ ہے کہ اس کو پکڑ کر قتل کر دیا جائے۔ اس قسم کا قتل مقتول کی بات کو رد نہیں کرتا۔ بلکہ لوگوں کا تاثر یہ ہو جاتا ہے کہ اس نے ایک طاقتور بات کہی تھی۔ چونکہ اس کی بات کا علمی رد ممکن نہ تھا، اس لیے مجنوںوں نے اس کو مار کر اس کے وجود کو ختم کر دیا۔ مزید یہ کہ تاریخ میں بہت سے سچے اور بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں جن کو وقت کے ظالموں نے قتل کیا ہے۔ اس تاریخی پس منظر میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ مقتول کا رشتہ ان گزرے ہوئے لوگوں کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ وہ اس کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس کے ساتھ بھی وہی کچھ پیش آیا ہے جو اس سے پہلے بے شمار سچے انسانوں کے ساتھ پیش آیا۔ اس طرح مخالفین کے ہاتھوں سے قتل ہونا اس کو ”شہیدانِ حق“ کی فہرست میں شامل کر دیتا ہے۔ یہ کوئی فرضی بات نہیں۔ سلمان رشدی کے اعلانِ قتل کے بعد عملاً یہی بات پیش آئی ہے۔ مثال کے طور پر ٹائمس آف انڈیا (5 مارچ 1989) میں ایک مضمون نمایاں طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page