Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

آغازِ کلام

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لیے ان کے تمام اماظم واکا برا کٹھا ہوگئے ہوں۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ اگر ذرا بھی ان کے خلاف مزاج بات کرے تو وہ فوراً مشتعل ہو کر اس سے لڑنے لگتے ہیں۔ کوئی ان کی مسجد کی دیوار پر رنگ ڈال دے۔ ان کی نماز کے وقت کوئی گھنٹہ بجادے۔ کسی کا جلوس ان کے محلہ کی سڑک سے گزر جائے ۔ کوئی ایسا نعرہ لگادے جو ان کے قومی وقار کے خلاف ہو۔ کوئی شخص ایک قابل اعتراض بیان اخبار میں چھاپ دے۔ اس قسم کی کوئی ادنی اشتعال انگیزی بھی انھیں مشتعل کردینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ اتنا بے خود ہوجاتے ہیں کہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ جو لڑائی وہ چھیڑرہے ہیں اس میں دوسرا فریق چھری ثابت ہوگا اور وہ خود خربوزہ کی مثال بن کر رہ جائیں گے۔ ناگوار باتوں پر مشتعل ہو جانے کی اس فہرست میں سب سے زیادہ نمایاں چیز وہ ہے جس کو " ناموس رسول پر حملہ " یا " رسول کی شان میں گستاخی " جیسے جذباتی الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کی اگر کوئی افواہ بھی پھیل جائے تو اس کے بعد مسلمان اس طرح بھڑک کر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام تو درکنار عقل وہوش سے بھی ان کا دور کا کوئی تعلّق نہیں۔ مسلمانوں کا یہ لغومزاج صرف اس لیے ہے کہ انھوں نے دعوت کا شعور کھو دیا ہے۔ دوسری اقوام کو وہ صرف اپنا قومی رقیب اور دنیوی حریف سمجھتے ہیں۔ اس لیے ہر بات کو فوراً قومی وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ اگر ان کے اندر داعیانہ شعور زندہ ہو تو وہ دوسری اقوام کو اپنا مدعو سمجھیں گے۔ اس کے بعد دوسری اقوام سے انھیں نفرت کے بجائے خیر خواہی پیدا ہو جائے گی۔ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی ناگواریوں پر وہ اسی طرح صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں گے جیسا کہ رسول اور اصحاب رسول نے اختیار کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page