Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

قول بلا فعل

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ خمینی کا خاندان ہو یا اخباروں میں خطوط اور مضامین شائع کرنے والے عام مسلمانوں کا خاندان ، سب کے سب اطمینان وسکون کے ساتھ گھروں اور اپنے دفتروں میں بیٹھے رہے، ان میں سے ایک شخص نے بھی اس سنجیدگی کا ثبوت نہیں دیا کہ وہ خود ہوائی جہاز کا ٹکٹ لے کر لندن پہنچے یا اپنے صاحبزادے کو اس مہم پر روانہ کرے۔ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے امریکا کے مسلم نو جوان کے بارے میں جو بات کہی، وہی ان تمام مسلمانوں کے بارے میں صحیح ہے جو رشدی کے قتل کی وکالت کر رہے تھے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے یہ تمام مسلمان صرف لفظوں کے بادشاہ ہیں، ان میں سے کوئی بھی شخص عمل کا بادشاہ نہیں۔ یہ بلاشبہ بے حد تشویش ناک بات ہے۔ کیونکہ یہ عین وہی اخلاقی کمزوری ہے جس کو قرآن میں قول بلا فعل کہا گیا ہے۔ اور قول بلا فعل کے متعلق قرآن کا اعلان ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک سخت ناراضگی کی بات ہے، وہ اللہ کی خوشنودی اور رضامندی کی بات نہیں ( 61:3 )۔ سورہ الصّف کی اس آیت کی تشریح میں مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں: بندہ کولاف زنی اور دعوے کی بات سے ڈرنا چاہیے کہ پیچھے مشکل پڑتی ہے، زبان سے ایک بات کہہ دینا آسان ہے، لیکن اس کا نباہنا آسان نہیں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے ناراض اور بیزار ہوتا ہے جو زبان سے کہے بہت کچھ اور کرے کچھ نہیں ( صفحہ 715 )۔ کیسی عجیب بات ہے کہ موجودہ مسلمانوں میں سے بے شمار لوگوں نے ”رشدی کو قتل کرو“ کے نعرے لگائے۔ مگر ان میں سے کوئی ایک شخص نہ تھا جو بذات خود جان پر کھیل کر رشدی کو قتل کرنے کی کوشش کرے۔ کیا اس کے بعد کوئی شبہ کی گنجائش باقی رہتی ہے کہ یہ سب جھوٹے الفاظ بولنے والے لوگ تھے۔ ان میں کوئی ایک شخص بھی نہیں جو سچا لفظ بولنے والا ہو۔ کیونکہ سچے لفظ اور عمل کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page