شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ کے مسلمان جھوٹے الفاظ پر اسلام کا مینار کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ جھوٹے الفاظ پر تو کفر کو بھی کھڑا نہیں کیا جاسکتا، اسلام کو کھڑا کرنا درکنار۔ سامان تضحیک انگلینڈ میں قدیم زمانہ سے ایک قانون ہے جو مذہبی بے حرمتی (Blasphemy) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ قانون سترہویں صدی میں بنایا گیا۔ عیسائیت (اینگلیکن چرچ کی تشریح کے مطابق) انگلینڈ کا سرکاری مذہب ہے۔ اس قانون سازی کی وجہ، بنیادی طور پر، یہ تھی کہ یہ سمجھا گیا کہ مذہب پر حملہ لازمی طور پر خود ریاست پر حملہ ہے: "An attack on religion is neccessarily an attack on the state." (Encyclopaedia Britannica, Vol 2, p. 75) موجودہ حالت میں اس قانون کا تعلق صرف عیسائی مذہب سے ہے۔ برطانیہ کے مسلمان (زیادہ صحیح الفاظ میں، برطانیہ میں مقیم کچھ ہندوستانی مسلمان) وہاں یہ مہم چلا رہے ہیں کہ مذکورہ قانون میں وسعت پیدا کرکے اس کو مسلم مذہب تک وسیع کیا جائے، تاکہ اس کے تحت سلمان رشدی کی کتاب کی خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جاسکے۔ میرے نزدیک یہ مطالبہ بالکل لغو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف جھوٹی لیڈری ہے، ورنہ خود مطالبہ کرنے والے بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں اس طرح کے قوانین کا عملی طور پر مطلق کوئی فائدہ نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ انتہائی سطحی بھی ہے۔ مسلم ملکوں میں اسلام یا اسلامی شخصیتوں کی بے حرمتی کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ کیا مسلمان اس کے لیے راضی ہوں گے کہ ان قوانین کو عیسائیت، ہندوازم اور یہودیت تک وسیع کیا جائے۔ خواہ اس کے تحت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader