Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

سامان تضحیک

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے مذاہب کے لوگوں کو موقع ملے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف مقدمات قائم کر سکیں کہ انھوں نے ان کے مذہب کی بے حرمتی کی ہے۔ مسلمان جو حق اپنے ملک میں دوسروں کو نہیں دے سکتے۔ اس حق کو دوسروں کے ملک میں اپنے لیے مانگنا بلا شبہ صرف سطحی لیڈری ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس احمقانہ مہم نے اسلام کے خلاف بے حرمتی کا تحفظ تو نہیں کیا۔ البتہ اس نے اسلام کی بے حرمتی کے اسباب ضرور فراہم کر دیے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ برطانیہ کے کچھ نام نہاد مسلم لیڈروں نے حکومت برطانیہ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ حکومت مذکورہ قانون کو اسلام کی بے حرمتی تک وسیع کرے۔ اس کے جواب میں برطانیہ کے ہوم آفس کے منسٹر آف اسٹیٹ مسٹر جان پیٹن (John Patten) نے انھیں ایک خط بھیجا ہے۔ یہ خط ٹائمز آف انڈیا (6 جولائی 1989) کے آخری صفحہ پر چھپا ہے۔ یہ رپورٹ جو پی ٹی آئی نے لندن سے روانہ کی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے مسلم لیڈروں کے نام ایک خط میں مسٹر پٹن نے کہا کہ قانونی میکانزم مذہب اور انفرادی عقیدہ کے معاملات سے نمٹنے کے لیے غیر موزوں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خود عیسائی مذہب اب اس قانون پر اعتماد نہیں کرتا۔ عیسائی لوگ اس یقین رکھتے ہیں کہ ان کے مذہب کی اپنی طاقت اس قسم کے حملوں کے مقابلہ میں بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے: In a letter to prominent British Muslim Leaders, Mr. Patten said "Legal mechanisms were inappropriate for dealing with matters of faith and individual beliefs. Indeed, the Christian faith no longer relies on it, preferring to

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page