شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے انسانوں کی روش کو حوالہ دے کر صحیح بتانا لغویت کی حد تک غیر اسلامی ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کے لیے رسول خدا کے عمل میں نمونہ ہے، نہ کہ دوسرے انسانوں کے عمل میں۔ اشتعال انگیزی نہیں ایک عربی ادیب سلمان رشدی کے معاملہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب ایک مسلمان اس وقت بھڑک اٹھتا ہے اور غضب ناک ہو جاتا ہے جب کہ اس کے والد یا والدہ کی اہانت کی جائے تو اس ہستی کی اہانت پر کیوں نہ بھڑک اٹھے گا جو مرتبہ میں سب سے بڑا ہے اور محبت اور وفاداری کا سب سے زیادہ مستحق ہے: ”إِذَا كَانَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ يَثُورُ وَيَغْضَبُ إِذَا أُهِينَتْ وَالِدَتُهُ أَوْ وَالِدُهُ، فَكَيْفَ لَا يَثُورُ لِلَّذِي هُو أَعْظَمُ مَنْزِلَةً وَأَحَقُّ بِالْمَحَبَّةِ وَالْوَفَاءِ؟ أَيُدَّعَي الْمُسْلِمُ بَعْدَ ذَلِكَ وَفِيًّا لِلْإِسْلَامِ؟“ ( البعث الاسلامی، جون 1989، صفحہ 85)۔ اس کے بعد اس عربی مضمون میں کہا گیا ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں دینی غیرت ختم ہو گئی ہے۔ اس لیے ہم یہ افسوسناک منظر دیکھ رہے ہیں کہ سلمان رشدی نے اہانت رسول کا اتنا بڑا واقعہ کیا مگر مسلمان اس پر اتنا غضب ناک نہیں ہوئے جتنا غضب ناک اس طرح کے واقعہ پر ہونا چاہیے۔ کلام کا یہ انداز سراسر لغو ہے۔ اس قسم کے جذباتی انداز کا تعلق نہ عقل سے ہے اور نہ اسلام سے۔ یہ صحیح ہے کہ اہانت کے واقعہ سے آدمی کو سخت جھٹکا لگتا ہے۔ مگر کوئی بھی شریف اور سنجیدہ آدمی ایسا نہیں کرتا کہ جب بھی کوئی اہانت کا واقعہ ہو تو وہ غضب ناک ہو کر ہنگامہ آرائی کرنے لگے یا اہانت کرنے والے شخص کے قتل کے درپے ہو جائے۔ ایک بے مقصد آدمی ہی اس قسم کی جذباتی طرزِ عمل اختیار کر سکتا ہے۔ با مقصد آدمی اس طرح کی جہالت کو ہمیشہ اعتراض کے خانہ میں ڈالتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ اپنے مقصد کی طرف پیش قدمی کو جاری نہیں رکھ سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader