Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

اشتعال انگیزی نہیں

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

سلمان رشدی کی کتاب (شیطانی آیات) کے معاملہ میں عام طور پر مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والوں نے اسی قسم کا منفی اور جذباتی انداز اختیار کیا ہے جس کی ایک مثال اوپر نقل کی گئی ہے۔ مگر یہ اندازِ کلام درست نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کسی کی ماں کے بارے میں تو ہین آمیز کلمات کہے جائیں تو اس کو سن کر فوری طور پر اس کو قلبی تکلیف ہوگی۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی جب ایسا نازیبا کلام سنے تو اس کے بعد فوراَ وہ کہنے والے سے لڑنے لگے، یا اس کے قتل کے درپے ہو جائے۔ ایسے مواقع پر آدمی کا متاثر ہونا بلاشبہ فطری ہے۔ مگر ایسے آدمی کو "جہنم رسید" کرنے کا منصوبہ بنانا بھی یقیناً غیر فطری اور نادرست ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام فلسطین کی ایک خاتون کے بطن سے باپ کے بغیر پیدا ہوئے۔ یعنی ان کی ایک ماں تھی، مگر ان کا کوئی انسانی باپ نہ تھا۔ اس پر فلسطین کے یہودیوں نے آپ کی والدہ پر، نعوذ باللہ، بدکاری کا الزام لگایا۔ اور حضرت مسیح کو ولد الزنا کہا۔ مگر حضرت مسیح نے ایسا نہیں کیا کہ ایسے لوگوں کے لیے قتل کا فرمان جاری کر دیں، حضرت مسیح کو خصوصی معجزاتی طاقتیں حاصل تھیں ۔ وہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا جن لوگوں نے آپ کی یا آپ کی والدہ محترمہ کی اہانت کی تھی، ان کو مارنے اور ہلاک کرنے کی مہم شروع کر دیں۔ اسی طرح اسلام کے دورِ اول میں مدینہ کے منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہ پر نعوذ باللہ بدکاری کا الزام لگایا اور عوام کے درمیان خوب پھیلایا۔ حضرت عائشہ نہ صرف پیغمبر اسلام کی اہلیہ تھیں بلکہ ان کی حیثیت ام المومنین کی تھی، وہ تمام مسلمانوں کے لیے مقدس ماں کا درجہ رکھتی تھیں۔ مگر مدینہ میں، اقتدار و اختیار کے باوجود ایسا نہیں کیا گیا کہ اس جرم کا ارتکاب کرتے ہی تمام مجرمین کو پکڑا جائے اور ان کا سر کاٹ کر شہر کی دیواروں پر لٹکا دیا جائے۔ پھر جب رسول اور اصحاب رسول نے ایسا نہیں کیا تو بعد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page