Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مسلمان کس دلیل سے اس قسم کا فعل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ملاحظات اخبار میں مولانا میرٹھی کا ایک مراسلہ شائع ہوا ہے۔ اس کا عنوان ہے: ”رشدی کا شیطانی ناول“، اس مراسلہ کا ایک حصہ یہ ہے: ”بدنام زمانہ رشدی کا شیطانی ناول آج کل مذہبی دائروں سے نکل کر سیاسی حلقوں میں بھی بحث ومباحثہ اور ہنگاموں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جہاں تک اسلامی نقطہ نظر کا تعلق ہے، مسلمان حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کائنات کا بہترین شخصیت مانتے ہیں۔ وہ ہر بات برداشت کر سکتے ہیں، مگر حضور کی توہین اور آپ کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اس سلسلہ میں علامہ خمینی کا اقدام قابل تعریف ہے۔ اور حضرت مولانا علی میاں کا بیان صداقت و حقیقت کا آئینہ دار ہے۔“ (قومی آزادی 27 فروری 1989) قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا اصل پہلو آپ کا ”اسوہ“ ہونا بتایا گیا ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے اپنی ذات کا اصل پہلو آپ کا ”اعظم“ ہونا قرار دے لیا ہے۔ یہی انحراف ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ رسول کو اگر آپ اسوہ اور نمونہ سمجھیں تو اس سے پیروی کا ذہن پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بجائے اگر آپ رسول کو اعظم واکبر سمجھیں تو اس سے فخر کا ذہن ابھرے گا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں یہ مظہر پوری طرح دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو اختیار کرنے کا جذبہ تو بالکل مفقود ہے۔ حقیقی اتباع رسول سے ان کے اکابر بھی خالی ہیں اور ان کے اصاغر بھی۔ البتہ آپ شہنشاہ کونین، سرور کائنات اور فخر موجودات کہہ کر اس پر فخر کرنے کا جذبہ اتنا زیادہ بڑھا ہوا ہے کہ اس کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page