Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ملاحظات

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

خاطر وہ ساری دنیا میں دھوم مچانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ حتی کہ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا سے برتر قرار دینے میں بھی مسلمانوں کو کوئی باک نہیں ہے۔ عام مسلمان اس کو کسی قدر مخفی الفاظ میں کہتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ بے باک ہیں وہ سیدھے سیدھے یہ اعلان کر رہے ہیں : اللہ کے پلہ میں وحدت کے سوا کیا ہے جو کچھ ہمیں لینا ہے لیں گے محمد سے موجودہ مسلمانوں کے اسی مزاج کا نتیجہ ہے کہ خدا کے بارے میں خواہ کتنی ہی زیادہ مخالفانہ باتیں کہی جائیں، انہیں اس پر کبھی جوش نہیں آتا، اور نہ اس پر ان کے جذبات بھڑکتے۔ لیکن اگر ان کے پیغمبر کے بارے میں کوئی شخص گستاخی کا ایک کلمہ بول دے تو فوراً بھڑک کر لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ پاکستان کے قدرت اللہ شہاب صاحب نے مسلمانوں کی نفسیات کو دو واقعے کی شکل میں بہت خوبی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ دونوں واقعات ان کی ابتدائی طالب علمی کے زمانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کو ہم ان کی کتاب سے یہاں نقل کرتے ہیں : "آبادی سے دور ایک مخبوط الحواس، مجنون صفت، مجذوب نما شخص ویرانے میں بیٹھا رہتا تھا۔ اور ہمہ وقت الا اللہ، الا اللہ کی ضربیں لگاتا رہتا تھا۔ میں اور میرا ایک ہم عمر ہندو دوست اکثر اس کے پاس جاکر اس کا منہ چڑھایا کرتے اور اس کے ذکر کی نقلیں اتارا کرتے تھے۔ میرا ہندو دوست الا اللہ کے وزن پر مہمل مضحکہ خیز اور کبھی کبھی فحش قافیے جوڑ کر مذاق بھی اڑایا کرتا تھا۔ مجذوب نے ہمیں بار بار ڈانٹا کہ ہم اللہ کے نام کی بے حرمتی نہ کریں لیکن ہم باز نہ آئے۔ ایک روز ہم دونوں اسی مشغلے میں مصروف تھے کہ ایک شخص ادھر سے چند نعتیہ اشعار الاپتا ہوا گزرا، جس کا ایک مصرعہ یہ تھا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page