Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ملاحظات

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

محمد نہ ہوتے تو دنیا نہ ہوتی یہ مصرعہ سن کر میرا ہندو دوست زور زور سے ہنسنے لگا۔ اور اس نے اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کچھ گستاخیاں بھی کیں۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، لپک کر ایک پتھر اٹھایا، اور اسے گھما کر ہندو لڑکے کے منہ پر ایسے زور سے دے مارا کہ اس کا سامنے کا آدھا دانت ٹوٹ گیا۔ لاشعوری کی وہ کون سی لہر تھی جو اللہ کے ساتھ مذاق پر تو خاموش رہتی تھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گستاخی پر آناً فاناً جوش میں آگئی تھی؟۔ رسول خدا کے متعلق بد زبانی کرے تو اکثر لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی تک لگا بیٹھے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں۔ بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان عزیز کو قربان کر دیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد و تقویٰ میں ممتاز تھے۔ ایک عامی مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت کے حق میں مضطرب ہوتا ہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے۔ خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے“(شہاب نامہ، قدرت اللہ شہاب، دہلی 2003، صفحہ 03-1202)۔ خدا کے بارے میں غیر حساس ہونا اور خدا کے پیغمبر کے بارے میں حساس ہونا بلاشبہ گمراہی ہے۔ اس کا ہدایت سے کوئی تعلق نہیں۔ جو لوگ اس قسم کی خوش عقیدگی میں جی رہے ہیں، وہ قیامت کا انتظار کریں۔ اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہ ایک نیا دین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page