Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ناقابل فہم

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

ناقابل فہم مسلمان میں جو لوگ سلمان رشدی کے قتل کی وکالت کر رہے ہیں وہ شتم رسول کے مسئلہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں گویا کہ یہ کوئی عام اور مطلق حکم ہے۔ یعنی یہ کہ جب بھی کوئی شخص رسول پر سب وشتم کرے، اس کو فوراً قتل کر دیا جائے۔ از روئے مسئلہ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی تخصیص نہیں۔ اسی طرح اس کا تعلق کسی ایک پیغمبر سے بھی نہیں ہے بلکہ تمام پیغمبروں سے ہے۔ قرآن میں جن پیغمبروں کا ذکر ہے ان میں سے کسی ایک پیغمبر پر سب شتم کرنا فوراً آدمی کو گردن زدنی قرار دے دیتا ہے۔ اگر شتم کے اس مسئلہ کو صحیح مان لیا جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ صدیوں سے تمام علماء اور تمام مسلم حکمران اس معاملے میں مجرمانہ غلطی کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ بار بار سب وشتم کا واقعہ ہونے کے باوجود انھوں نے اس مسئلہ پر عمل نہیں کیا۔ نہ علماء نے قتل کے فتوے دیے، اور نہ حکمرانوں نے ایسے لوگوں کو قتل کرایا۔ جن علماء اور فقہاء کے یہاں یہ مسئلہ ہے کہ سب وشتم کرنے والا شخص واجب القتل ہے، وہ ان کے نزدیک صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہیں ہے بلکہ خدا کے تمام پیغمبروں کے لیے ہے۔ امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب میں ایک مستقل باب اس عنوان کے تحت قائم کیا ہے کہ: فَصْلٌ ؀ اِلحُکْمُ فِي سَبِّ سَائِرِ الأَنْبِيَاءِ كَالْحُكْمِ فِي سَبِّ نَبِيِّنَا اس باب کے تحت ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ تمام پیغمبروں کو سب وشتم کرنے کا وہی حکم ہے جو ہمارے پیغمبر کو سب وشتم کرنے کا حکم ہے۔ پیغمبروں میں سے جس پیغمبر کو بھی کوئی شخص سب وشتم کرے وہ کافر ہے اور اس کا خون حلال ہے۔ (اِلحُکْمُ فِي سَبِّ سَائِرِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page