Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ناقابل فہم

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

اَلْأَنْبِیَاءِ کَالْحُکْمِ فِی سَبِّ نَبِیِّنَا ... إِنَّ سَابَّهُمْ کَافِرٌ حَلَالُ الدَّمِ‘‘ (الصَّارِمُ الْمَسْلُولِ عَلَى شَاتِمِ الرَّسُولِ، صفحه 565)۔ ایک طرف اس مسئلہ کو سامنے رکھیے۔ دوسری طرف یہ دیکھیے کہ فقہاء کے یہاں سب و شتم کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ کسی نبی کی اشارہ سے بھی تحقیر کرنا شتم میں داخل ہے۔ ایک مثال اس کو واضح کرتی ہے۔ امام ابو یوسف نے ایک مرتبہ یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے میں کدو پسند کرتے تھے اور اس کو رغبت سے کھاتے تھے۔ اس پر جماعت میں سے ایک شخص اٹھا اور اونچی آواز سے کہنے لگا کہ مجھے کدو پسند نہیں۔ امام ابو یوسف نے اس کے اس کلام کو شتم قرار دیا اور اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ آخر کار اس شخص نے توبہ کی اور (حنفی مسلک کے مطابق) اس کی معافی ہوئی۔ اسی واقعہ پر علامہ انور شاہ کشمیری نے یہ شعر کہا ہے کہ ابو یوسف نے ایک شخص کو یہ کہنے پر قتل کر دیے جانے کا حکم دے دیا کہ مجھے کدو پسند نہیں، اور وہ وقت معافی کا نہ تھا: وَقِصَّتُهُ تُبْعَرُ أَيْ الْقَتْلَ عِنْدَهَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، وَلَاتَ أَوَانٍ (اکفار الملحدین فی ضروریات الدین، صفحہ 111)۔ اب اگر مسئلہ وہی ہو جو بظاہر اوپر کے بیان میں نظر آتا ہے تو علماءِ اسلام کو چاہیے تھا کہ ایسے تمام شاتمین کے بارے میں قتل کا فتویٰ دیں۔ اور پھر عام مسلمانوں سے یا مسلم حکومتوں سے یہ کہیں کہ وہ انھیں فوراً قتل کر دیں۔ مگر حال یا ماضی کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں کیا گیا۔ ایک مثال لیجیے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے بنکر ار حضرت مسیح علیہ السلام کی شان میں واضح گستاخیاں کی ہیں۔ مثلاً اس کا شعر ہے: ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے مرزا غلام احمد قادیانی کے اسی قسم کے سب و شتم کی بنا پر اس کے بارے میں علامہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page