ناقابل فہم
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
انور شاہ کشمیری نے یہ شعر کہا ہے کہ (غلام احمد قادیانی کے ہاتھوں) ایک اولو العزم پیغمبر کو تمہارے سامنے گالی دی جارہی ہے۔ یہ ایسا جرم ہے کہ قریب ہے کہ آسمان اور زمین پھٹ پڑیں : "يَسُبُّ رَسُولًا مِنْ أُولِي الْعَزْمِ فِيكُمْ، تَكَادُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ تَنفَطِرَانِ" (اکفار الملحدين فى ضروريات الدين، صفحہ 108)۔ رسول پر اس سب وشتم کے باوجود مولانا کشمیری نے اور نہ دوسرے علماء نے یہ کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو قتل کر دو۔ قادیانی اپنے کھلے ہوئے سب وشتم کے باوجود زندہ رہا۔ یہاں تک وہ اپنی طبعی موت سے مر کر خدا کے یہاں پہنچ گیا۔ یہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی بات نہیں بلکہ دنیا میں بسنے والے بیشتر انسانوں کی بات ہے۔ جب سب وشتم کے جرم کا تعلق یکساں طور پر تمام پیغمبروں سے ہے اور اس کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اشارہ اور کنایہ کے درجہ میں بھی اگر کسی کے کلام سے کسی پیغمبر کی تحقیر ظاہر ہو تو وہ شاتم رسول قرار پاتا ہے۔ اور قانون کی نظر میں واجب القتل ہو جاتا ہے تو نہ صرف معروف قسم کے بد دین شتم رسول کے مجرم قرار پائیں گے بلکہ کتنے ہی صلحاء اور علماء کو بھی اس صف میں کھڑا کرنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر علامہ اقبال کی ایک نظم نظام الدین اولیاء کے بارے میں ہے۔ اس کا عنوان ”التجائے مسافر“ ہے۔ اس نظم کے دو مصرعے یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔ اس میں پیغمبر کے اوپر غیر پیغمبر کو بلند مرتبہ بتایا گیا ہے جو ہر تعریف کے مطابق شتم رسول ہے: فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا اسی طرح مشہور دیوبندی عالم مولانا محمود حسن صاحب کو بھی خدانخواستہ انہیں شاتمین کی صف میں کھڑا کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ان کے فرمودات میں ایسی چیزیں ملتی ہیں جو حضرت مسیح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader