ناقابل فہم
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
علیہ السلام کی تحقیر کو مستلزم ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا یہ شعر: مُردوں کو زندہ کیا، زندوں کو مرنے نہ دیا اس مسیحائی کو دیکھیں ذرا ابن مریم یہودی بحیثیت قوم حضرت مسیح کو نعوذ باللہ ولد الزنا کہتے ہیں، اس لیے وہ سب کے سب واجب القتل ہیں۔ عیسائی بحیثیت قوم پیغمبر اسلام کو نعوذ باللہ بناوٹی پیغمبر (false prophet) کہتے ہیں، اس لیے وہ بھی سب کے سب واجب القتل ہوئے۔ آج کل کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ، جن میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں، وحی کو کوئی حقیقی چیز نہیں سمجھتا۔ اس کا عام خیال یہ ہے کہ پیغمبروں نے لوگوں کو نعوذ باللہ، بے وقوف بنانے کے لیے یہ کہہ دیا کہ ان پر خدا کی طرف سے وحی آتی ہے۔ انھوں نے ایسے کلام کو خدا کا کلام بتا کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اسی طرح دنیا کی موجودہ آبادی کا بیشتر حصہ کسی نہ کسی اعتبار سے اس جرم کا مرتکب ہو رہا ہے جس کو شتم رسول کہا جاتا ہے۔ پھر کیا یہ پرجوش مسلمان ان تمام لوگوں کو ایک طرف سے بطور حد قتل نہ کرنے کی صورت میں خدا کے یہاں ناقابل معافی مجرم نہ قرار پائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader