قلم کا جواب قلم
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
قلم کا جواب قلم ابن تیمیہ (728-661ھ) کے زمانے میں شام میں ایک واقعہ ہوا۔ یہ واقعہ مورخ ابن کثیر نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے: عساف نصرانی کا واقعہ: یہ شخص (دمشق کے جنوب میں واقع ایک شہر) السویداء (As-Suwayda) کا باشندہ تھا۔ اس کے خلاف ایک جماعت نے گواہی دی کہ اس نے پیغمبر اسلام کو سَبّ (گالی) دیا ہے، اس کے بعد عساف نے امیر آل علی، ابن احمد بن حجی کی پناہ لے لی، پس شیخ تقی الدین ابن تیمیہ، اور شیخ زین الدین الفارقی شیخ دار الحدیث اکٹھے ہوئے، اور دونوں نائب سلطنت امیر عز الدین ایبک الحموی کے پاس گئے، اور اُس تعلق سے نائب امیر سے گفتگو کی۔ انھوں نے ان دونوں کی بات مان لی، اور اسے حاضر ہونے کے لیے پیغام بھیجا۔ پس وہ دونوں نائب امیر کے ہاں سے نکلے، تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے، اور جب عساف سامنے آیا، تو لوگوں نے دیکھا کہ اس کے ساتھ ایک عربی شخص بھی ہے۔ لوگوں نے اس عرب کو برا بھلا کہا، اور ایک دیہاتی آدمی نے کہا: یہ تم سے بہتر ہے، یعنی نصرانی۔ اس کے بعد لوگوں نے دونوں کو پتھر مارے، جو عساف کو لگے، اور وہ بہت زور سے چلانے لگا۔ نائب امیر نے پیغام بھیج کر شیخ ابن تیمیہ اور الفارقی کو طلب کیا، اور اپنے سامنے دونوں کو مارا، اور ان دونوں کو العذراویہ میں قید کر دیا، اور اس نصرانی نے آ کر اسلام قبول کر لیا، جس کی وجہ سے مجلس منعقد کی گئی، اس مجلس میں اس نے ثابت کیا کہ اس کے اور گواہوں کے درمیان عداوت پائی جاتی ہے، پس وہ مباح الدم ہونے سے بچ گیا، پھر نائب امیر نے شیخین کو بلایا، اور انھیں راضی کیا، اور ان کو رہا کر دیا، اس کے بعد وہ نصرانی بلادِ حجاز چلا گیا، اور اتفاق سے وہ مدینہ الرسول کے قریب قتل ہو گیا، اسے اس کے بھتیجے نے وہاں قتل کیا۔ اس واقعے کے بارے میں شیخ تقی الدین ابن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader