قلم کا جواب قلم
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
تیمیہ نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام الصارم المسلول علی ساب الرسول ہے۔ (البدایۃ و النھایۃ، جلد، 13 صفحہ 396)۔ اس طرح کا واقعہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینے کے دور میں پیش آیا تھا۔ اس زمانے میں اس کو ہجو (to abuse) کہتے تھے، یعنی بدگوئی کرنا۔ وہ روایت اس طرح ہے: عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اهْجُوا قُرَيْشًا، فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقِ بِالنَّبْلِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2490)۔ یعنی عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: قریش کی ہجو کرو۔ کیوں کہ ہجو کے اشعار قریش پر تیروں کی بارش سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں جواب کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ماخوذ شخص کو قتل کر دیا جائے، بلکہ سنت رسول کے مطابق، اس کا جواب یہ تھا کہ اس کے جواب میں ہجو کے اشعار کہے جائیں۔ ہجو کا مطلب اشعار کی زبان میں جواب دینا تھا۔ قدیم زمانہ، پرنٹنگ پریس سے پہلے کا زمانہ تھا، اس وقت لوگوں میں یہی طریقہ رائج تھا۔ اب زمانے کے لحاظ سے اس پر عمل کرنے کا نتیجہ خیز طریقہ یہ ہے کہ نثر کی زبان میں اس کا جواب لکھا جائے، اور اس کو چاپ کر لوگوں میں شائع کیے جائیں۔ یہی اس معاملے میں ثابت شدہ مسنون طریقہ ہے۔ اس کے مقابلے میں احتجاج کرنا، قتل اور اقدام قتل جیسے منفی طرزِ عمل سنت رسول سے ثابت نہیں۔ برعکس طور پر ہجو کرنے والے کے لیے ہدایت کی دعا کرنا ثابت ہے۔ جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کے لیے دعا کی۔ حدیث کا متعلق جزء یہ ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ، فَدَعَوْتُهَا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader