قلم کا جواب قلم
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
يَوْمًا فَأَسْمَعْتَنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ فَتَأْبَى عَلَيَّ، فَدَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعْتَنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ اِهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2491)۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی ماں کو اسلام کی دعوت دیتا تھا، جب کہ وہ مشرکہ تھیں ، ایک دن میں نے ان کو دعوت دی، تو انھوں نے مجھے رسول اللہ کے بارے میں ایسی بات کہی، جس کو میں ناپسند کرتا ہوں۔ میں روتا ہوا رسول اللہ کے پاس گیا، اور سارا واقعہ سنایا، اور کہا کہ آپ میری ماں کے لیے دعا کر دیجیے، آپ نے یہ سن کر دعا کی۔ اے اللہ، ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے ۔ حدیث کے مطابق ، ابو ہریرہ کی ماں نے اس کے بعد اسلام قبول کر لیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader