شاتم رسول کی سزا
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
شاتم رسول کی سزا امام ابن تیمیہ (وفات 1328ء) اسلامی تاریخ کے انتہائی مشہور عالم ہیں۔ اُن کو ”شیخ الاسلام“ کہا جاتا ہے۔ شتم رسول کے موضوع پر ان کی ایک ضخیم کتاب ہے۔ اس کا نام یہ ہے: الصَّارِمُ المسلول على شاتم الرسول۔ کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ جو آدمی شتم رسول کا مرتکب ہو، اُس کو حد کے طور پر قتل کر دیا جائے۔ شتم رسول کی اِس سزا کو جائز ثابت کرنے کے لیے انھوں نے لمبی بحثیں کی ہیں، لیکن حقیقی طور پر اُن کے اِس موقف کے لیے نہ قرآن میں کوئی دلیل ہے اور نہ حدیث میں۔ کتاب کے مطابق، بظاہر صرف ایک ”روایت“ ہے جس سے صراحت کے ساتھ شاتم رسول کے لیے قتل کا حکم معلوم ہوتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ خود ابن تیمیہ اس روایت کو منکر اور ضعیف بتاتے ہیں۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ اس روایت کے راوی غیر ثقہ ہیں۔ اس اعتراف کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ: ”فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا فَهُوَ دَلِيلٌ عَلَى وُجُوبِ قَتْلِ مَنْ سَبَّ نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ“ (صفحہ 93)۔ یعنی اگر یہ روایت درست ہو، تو وہ اس کی ایک دلیل ہے کہ جو شخص نبیوں میں سے کسی نبی کا سبّ و شتم کرے، اِس کو قتل کر دیا جائے۔ امام ابن تیمیہ حدیث کے بہت بڑے عالم مانے جاتے ہیں۔ اُن کے بارے میں ان کے ایک سوانح نگار نے یہ قول نقل کیا ہے کہ ــ ہر وہ حدیث جس کو ابن تیمیہ نہ جانتے ہوں، وہ حدیث نہیں (مُكُلُّ حَدِيثٍ لَّا يَعْرِفُهُ ابْنُ تَيْمِيَّةَ فَلَيْسَ بِحَدِيثٍ) تاریخ ابن الوردی، جلد 2، صفحہ 277۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ جب خود حافظ حدیث ابن تیمیہ اس روایت کو غیر ثقہ مانتے ہوں تو پھر ایسی غیر ثابت شدہ روایت سے قتل شاتم کا استدلال کیسے درست ہوسکتا ہے۔ اِس قسم کا استدلال بلاشبہ غیر دینی بھی ہے اور غیر علمی بھی۔ حقیقت یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader