Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ابن تیمیہ کی کتاب

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

ابن تیمیہ کی کتاب علامہ ابن تیمیہ کی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول کا وہ نسخہ میرے پاس ہے جو مجلس دائرۃ المعارف (حیدر آباد) سے 1322ھ میں چھپا تھا۔ اس کے 600 صفحات ہیں۔ اس کتاب میں شتم رسول کے مسئلہ پر نہایت تفصیلی بحث ہے۔ اس موضوع پر اسلامی کتب خانہ کی غالباً یہ سب سے زیادہ جامع کتاب ہے۔ ابن تیمیہ کا حافظہ غیر معمولی تھا۔ ان کا ذہن گویا ایک زندہ قاموس تھا۔ ان کے بارے میں کہا ہے کہ کوئی حدیث جس کو ابن تیمیہ نہ جانتے ہوں وہ حدیث ہی نہیں : کُل حَدِیثٍ لَّا یعرفہ ابن تیمیة فلَیسَ بِحَدِیث ( تاریخ ابن الوردی، جلد 2، صفحہ 277 )۔ حافظہ کی اسی خصوصیت کا نتیجہ ہے کہ ان کی کتابیں معلومات کا خزانہ ہوتی ہیں۔ مگر راقم الحروف کا احساس ہے کہ ان کی کتابیں معلومات کے اعتبار سے جس معیار کی ہوتی ہیں، وہ تجزیہ اور استدلال کے اعتبار سے اسی اعلیٰ معیار کی نہیں ہوتیں۔ اس کا ایک نمونہ ابن تیمیہ کی موجودہ کتاب بھی ہے۔ بلاشبہ زیر بحث موضوع پر معلومات کے اعتبار سے ان کی یہ کتاب منفرد کہی جا سکتی ہے۔ مگر تجزیہ اور استدلال کے اعتبار سے وہ کوئی معیاری کتاب نہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ کے دوران میں نے اس کے نوٹ تیار کر لیے ہیں جو کئی صفحات پر مشتمل ہیں۔ ان کی روشنی میں آئندہ، ان شاء اللہ، کسی وقت اس کتاب پر ایک مستقل مضمون لکھوں گا جس میں اس کے مباحث کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔ یہاں مختصر طور پر صرف چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ زیر بحث موضوع پر ابن تیمیہ کا نظریہ یہ ہے کہ شتم رسول کی سزا لازمی طور پر قتل ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ جیسے ہی کوئی شخص سب وشتم کا جرم کرے وہ فوراً اس کو مار کر اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page