Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ابن تیمیہ کی کتاب

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

خاتمہ کر دیں۔ ایسے شخص کے لیے اسلام میں اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں۔ مگر اس نظریہ کے حق میں انھوں نے جو دلائل جمع کیے ہیں، وہ اس کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ 1۔ علامہ ابن تیمیہ نے ایک باب کے تحت اس اعرابی مسلمان کا ذکر کیا ہے جس نے حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عدل پر الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ یہ تقسیم رضائے الہی کے مطابق نہیں کی گئی۔ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجیے کہ میں اُس منافق کو قتل کردوں۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے اللہ کی پناہ کہ لوگ یہ چرچا کریں کہ میں اپنے اصحاب کو قتل کرتا ہوں (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1063 ؛ مسند احمد، حدیث نمبر 14804)۔ اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صرف اس لیے قتل کرنے سے منع نہیں فرمایا کہ لوگ یہ چرچا کریں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ آپ نے اس لیے منع نہیں فرمایا کہ بجائے خود وہ شخص معصوم تھا: "فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمْنَعْ عُمَرَ مِنْ قَتْلِهِ إِلا لِئَلَّا يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ، وَلَمْ يَمْنَعْهُ لِكَوْنِهِ فِي نَفْسِهِ مَعْصُومًا" (صفحہ 174)۔ ابن تیمیہ کی اس توجیہ پر غور کیجیے۔ وہ اپنی کتاب میں اس نظریہ کی وکالت کر رہے ہیں کہ رسول کی شان میں گستاخی کرنے والا ہر حال میں مباح الدم ہے، اس کو ضرور قتل کر دیا جائے ۔ اب ان کے سامنے زمانہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے واقعات آتے ہیں جب کہ علی الاعلان گستاخی کرنے کے باوجود لوگوں کو قتل نہیں کیا گیا۔ مذکورہ سنت کے سامنے آنے کے بعد صحیح یہ تھا کہ ابن تیمیہ اپنے نظریہ کی تعدیل کریں ، وہ یہ کہیں کہ شاتم رسول کے لیے قتل کی سزا مقید ہے، نہ کہ مطلق۔ مگر وہ ایسا نہیں کہتے۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page