اسلام مغربی لٹریچر میں
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
دیا جا رہا ہے، اس معذرت کے ساتھ کہ نقل کفر کفر نباشد۔ قرون وسطیٰ کے مغربی لٹریچر میں پیغمبر اسلام کو عام طور پر جعل ساز اور جھوٹے رسول کی حیثیت سے متعارف کرایا جاتا تھا۔ قرآن ان کی ایک بناوٹی کتاب اور اسلام ایک نفس پرستانہ طریق حیات تھا، دنیا میں بھی اور دوسری زندگی میں بھی۔ اس زمانے میں مذہب، اسلام اور عیسائیت دونوں کے درمیان دشمنی کی سب سے بڑی وجہ تھی۔ دونوں طرف یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ ان ہی کا مذہب تمام صداقتوں کا واحد خزانہ ہے۔ مگر سیاسی اور فوجی تصادم، نظریاتی تصادم سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ڈیڑھ صدی تک ان کے پیرو پہلے مدینہ، پھر دمشق اور اس کے بعد بغداد سے نکل کر بازنطینی سلطنت کو روندتے رہے۔ یہاں تک کہ بڑھتے ہوئے مسیحیت کے مشرقی دارالسلطنت کے دروازے تک پہنچ گئے۔ قسطنطنیہ کے سقوط (1453ء) کے بعد چار صدیوں میں مسلم سلجوق اور عثمانی ترک اپنی ہمسایہ مسیحی طاقتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئے۔ 711ء سے شروع ہو کر تقریباً آٹھ سو برس میں مسلمان اسپین کے ایک حصہ پر قابض ہو چکے تھے اور انھوں نے فرانس تک پر دھاوا بول دیا تھا۔ سسلی دو صدیوں تک ان کے قبضہ میں رہا۔ اور اٹلی کے خلاف ایک فوجی اڈے کا کام کرتا رہا۔ بارہویں اور تیرہویں صدی کے دوران میں مغربی اقوام مسلمانوں کی زمین پر صلیبی جنگ لڑتی رہیں۔ ان صلیبی لڑائیوں کی یاد آئندہ نسلوں میں باقی رہی۔ زرتشت، بدھزم اور دوسرے کم ترقی یافتہ مذاہب کی کبھی اس طرح سے نفرت اور تحقیر نہیں کی گئی، جیسا کہ اسلام کے ساتھ پیش آیا۔ وہ قرون وسطیٰ کے مغرب کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھے۔ اور نہ انھوں نے مقابل میں آنے کی کبھی کوشش کی۔ اس لیے یہ بنیادی طور پر خوف، دشمنی اور تعصب تھا جس نے اسلام کے بارے میں مغرب کے نقطہ نظر کو متاثر کیا۔ اسلام کا عقیدہ ایک دشمن عقیدہ تھا۔ اس لیے وہ غلط نہ ہو جب بھی شبہ کی نظر سے دیکھا جانا لازمی تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader