Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

اسلام مغربی لٹریچر میں

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

پھر زبان کا روک بھی تھا مسیحیت اور دنیائے اسلام کے درمیان سیاسی اور فوجی تصادم کے چھ سو سال تک یورپ قرآن کی باقاعدہ مطالعہ کی سہولت سے محروم رہا۔ اس پوری مدت میں لاطینی زبان کا کوئی عالم یورپ میں ایسا نہیں ملتا جو عربی زبان پر بھی عبور رکھتا ہو۔ قرآن کی زبان سے اس کامل بے خبری نے قرآن کے بارے میں غلط تعارف کو پھیلنے کا موقع دے دیا۔ قرون وسطی اور اس کے بعد کی مسیحیت نے جس تحریری یا زبانی ذرائع سے اسلام کے بارے میں اپنا تصور قائم کیا، وہ وہی تھا جو صلیبی جنگوں کے دوران میں وجود میں آئے یا ان ممالک کی معرفت ملے جن سے اسلام کی لڑائی پیش آچکی تھی۔ مسیحی علماء اور پادریوں نے اسی کے ذریعہ اسلام کی تصویر بنائی۔ اسلام کی اس یورپی تصویر اور اس کی حقیقی اسلامی تصویر میں کوئی مشابہت محض اتفاق ہے۔ شام کے مشہور عیسائی عالم سینٹ جان آف دمشق (749ء) کو بازنطینی روایات کا بانی کہا جاسکتا ہے۔ جان نوجوانی کی عمر میں بنوامیہ کے دربار میں حاضر ہوا۔ وہ عربی، سریانی اور یونانی زبانیں جانتا تھا اور اپنے زمانہ کے اہل علم میں ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس نے اپنی کتاب میں اسلام کا تعارف ایک بت پرستانہ مذہب کی حیثیت سے کیا ہے جس میں ایک جھوٹے رسول کی پرستش ہوتی ہے۔ اس کے بیان مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آرین راہب کی سرپرستی میں بائبل کی مدد سے اپنے اصول وضع کیے۔ یہ اسلام کے متعلق عیسائیت کے قدیم اور عام تصور کی ایک مثال تھی۔ چنانچہ ڈانتے (وفات 1321ء) نے اپنی مشہور کتاب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نوویں جہنم کے سپرد کر دیا جو تفرقہ پردازوں اور رسوا کن اعمال کرنے والوں کے لیے مخصوص ہے (نعوذ باللہ)۔ بازنطینیوں میں پہلا شخص جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا باقاعدہ ذکر کیا اور اسلام پر گفتگو کی، وہ مورخ تھیوفینس (Theophanes) ہے۔ جس کا زمانہ 818-758 ہے۔ وہ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page