Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ابن تیمیہ کی کتاب

Urdu book, p. 150

By Maulana Wahiduddin Khan

کے برعکس، وہ جواب دیتے ہیں کہ ایسے افراد کو قتل نہ کرنے کا سبب یہ نہ تھا کہ وہ مباح الدم نہ تھے۔ بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ اگر ایسے افراد کو قتل کیا جاتا تو لوگ اس واقعہ کو لے کر اسلام کو بدنام کرنا شروع کر دیتے ۔ بالفاظ دیگر، میرا نظریہ بدستور صحیح ہے، وہ اس سے غلط ثابت نہیں ہوا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ابن تیمیہ کی اس توجیہ سے ثابت کیا ہوا۔ کیونکہ جہاں تک اصل مسئلہ کا تعلق ہے، وہ بدستوران کے نظریہ کے خلاف ہے۔ ابن تیمیہ کی مذکورہ توجیہ اصل صورت واقعہ میں صرف اتنا فرق کرتی ہے کہ پہلے اگر یہ کہا گیا تھا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کو بدنامی سے بچانے کے لیے گستاخ کو قتل نہیں کیا۔ تو اب ابن تیمیہ کے مطابق، بیان کے الفاظ یہ ہوں گے کہ ”گستاخی کرنے والا اگر چہ مباح الدم تھا، اس کے با وجود اسلام کو بدنامی سے بچانے کی خاطر آپ نے اس کو قتل نہیں کیا۔“ دونوں حالتوں میں اصل مسئلہ بدستور یکساں حالت میں باقی رہتا ہے۔ اور وہ ہے ۔ گستاخی کرنے والے کو قتل نہ کرنا۔ اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے ایک متوازی مثال لیجیے۔ فتح مکہ کے بعد جو مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لائے گئے تھے، ان کے بارے میں ایک شخص کہتا ہے کہ وہ سب کے سب مباح الدم تھے۔ اب اس کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل آتا ہے کہ آپ نے ان مشرکین کو قتل نہیں کیا بلکہ انہیں آزاد چھوڑ دیا۔ اس کے بعد وہ شخص دوبارہ کہتا ہے کہ مشرکین مکہ کو چھوڑنے کا سبب یہ نہیں تھا کہ وہ مباح الدم نہ تھے، بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ ان کی تالیف قلب کرنا چاہتے تھے۔ ”محمد اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں“ کو ابن تیمیہ نے شاید بالکل لفظی معنوں میں لے لیا ہے۔ انھوں نے دیکھا کہ اب دنیا میں نہ ”محمد“ باقی ہیں اور نہ ”اصحاب محمد“، اس لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page