Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ابن تیمیہ کی کتاب

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

اب اس مصلحت شرعی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو چکا۔ اب تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ گستاخی کرنے والا مباح الدم ہے۔ اس لیے ایسے شخص کو پکڑ کر فوراً قتل کر دینا ہے۔ مگر یہ ایک طفلانہ بات ہوگی کہ قولِ رسول کا یہ مطلب لیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ”محمد اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں“ کا مطلب اپنے اصل معنی کے اعتبار سے یہ ہے کہ ”اسلام اپنے ماننے والوں کو قتل کرتا ہے۔“ اب چونکہ بعد کے دور میں اور آج بھی یہ اندیشہ مزید شدت کے ساتھ موجود ہے، اس لیے آج بھی اس سنتِ رسول پر عمل کرنے کی ضرورت باقی ہے۔ آج بھی ہمیں یہی کرنا ہے کہ ایک شخص بالفرض اس معاملہ میں خالص قانونی اعتبار سے مباح الدم ثابت ہو جائے تب بھی ہمیں مصلحت کی بنا پر اس کے قتل سے باز رہنا ہے کہ اگر اس کو قتل کیا گیا تو لوگوں کو یہ موقع مل جائے گا کہ اس کو لے کر اسلام کو بدنام کریں اور اسلام کی وحشیانہ تصویر بنا کر خدا کے بندوں کو اسلام کے سایۂ رحمت میں آنے سے روکنے لگیں۔ 2۔ عبد اللہ بن ابی نے بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی۔ مثلاً اس نے کہا کہ اگر ہم مدینہ واپس پہنچ گئے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا (المنافقون 8:63)۔ عزت والے سے اس نے اپنے آپ کو مراد لیا اور ذلت والے نعوذ باللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ اسی طرح اس نے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ کے ساتھ ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں (المنافقون 7:63)۔ عبد اللہ بن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اس طرح کی اور بھی بہت سی گستاخیاں کیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ سے اس کے قتل کی اجازت مانگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ہم ایسا کریں تو مدینہ میں بہت سی ناک اس کے لیے کھڑی ہو جائیں گی۔ مزید آپ نے کہا کہ لوگوں کو یہ موقع نہ دو کہ وہ کہنے لگیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 291)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page