ابن تیمیہ کی کتاب
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ پس اسے معلوم ہوا کہ جو شخص اس طرح کے کلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچائے تو اس کو قتل کرنا جائز ہو جائے گا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اس لیے قتل نہیں کیا کہ یہ اندیشہ تھا کہ اس کے قتل کی وجہ سے لوگ اسلام سے متنفر ہو جائیں گے: ”فَعَلِمَ أَنَّ مَنْ آذَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا الْكَلَامِ جَازَ قَتْلُهُ كَذَلِكَ مَعَ الْقُدْرَةِ، وَإِنَّمَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَهُ لِمَا خِيفَ فِي قَتْلِهِ مِنْ نُفُورِ النَّاسِ عَنِ الإِسْلَامِ“ (صفحہ 175)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت سے واضح طور پر ثابت ہو رہا ہے کہ دعوت کی مصلحت ہر دوسری مصلحت پر مقدم ہے۔ آپ نے ایک بدترین گستاخ کو صرف اس لیے قتل نہیں کیا کہ اگر اس کو قتل کیا جاتا تو لوگ اسلام سے متنفر ہو جاتے۔ ابن تیمیہ اپنی کتاب میں اس واقعہ کو اور اس کے سبب کو نقل کرتے ہیں۔ مگر ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آسکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل ابن تیمیہ کے نظریہ کی تردید ہے۔ ابن تیمیہ بطور خود ایک شاتم کے قتل کو دین کی سب سے زیادہ بڑی قابلِ لحاظ مصلحت قرار دیتے ہیں جب کہ سنت رسول واضح طور پر ثابت کر رہی ہے کہ ایک اور مصلحت ہے جو شاتم کو قتل کرنے سے بھی زیادہ اہم اور قابلِ لحاظ ہے، اور وہ یہ کہ اسلام کو اس سے بچانا کہ لوگ اس سے متنفر ہو جائیں اور اس کی طرف راغب نہ ہو سکیں۔ اگر مصلحت دعوت کے مجروح ہونے کا اندیشہ ہو تو شاتم کے زندہ رہنے کو گوارا کر لیا جائے گا۔ بجائے اس کے کہ اسلام کی بدنامی کو گوارا کیا جائے۔ مذکورہ واقعہ کا نتیجہ ابن تیمیہ کی رائے کے بالکل برعکس ثابت ہو رہا ہے۔ مگر انہوں نے عجیب و غریب تاویل سے اس کو اپنے موافق بنا لیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader