ابن تیمیہ کی کتاب
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
3- ابن تیمیہ اپنی اس کتاب کے ایک حصے میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرو اپنے مالوں سے اور اپنے جانوں سے۔ اور جہاد بالنفس زبان سے بھی کیا جاتا ہے جس طرح وہ ہاتھ سے کیا جاتا ہے۔ بلکہ زبان کا جہاد زیادہ قوی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشرکین سے جہاد کرو، اپنے ہاتھوں سے اور اپنی زبانوں سے اور اپنے مالوں سے: جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ (سنن النسائی، حدیث نمبر 3096)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان بن ثابت سے کہا کرتے تھے کہ (اپنے اشعار سے) مشرکوں کے مقابلے میں جہاد کرو۔ مدینہ کی مسجد نبوی میں حسان بن ثابت کے لیے ایک منبر رکھا جاتا تھا۔ وہ اس پر بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اشعار میں آپ کی مدافعت کرتے تھے، اور مشرکین کے ہجو کا جواب دیتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں دعا کرتے ہوئے فرمایا کہ اے اللہ تو روح القدوس سے حسان کی مدد فرما۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان ثابت سے کہا کہ جبریل برابر تمہارے ساتھ ہوتے ہیں جبکہ تم خدا کے رسول کی طرف سے مدافعت کرتے ہو۔ اور آپ نے فرمایا کہ تمہارے اشعار مشرکین کو زیر کرنے کے لیے تیر سے بھی زیادہ سخت ہیں، اور مشرکین کی ایک تعداد مسلمانوں کو اذیت دینے والی چیزوں سے صرف اس لیے رکی رہتی تھی کہ ان کو اپنے بارے میں حسان بن ثابت کی ہجو کا اندیشہ رہتا تھا۔ کعب بن اشرف جب مدینہ سے مکہ گیا تو اس کا حال یہ ہوا کہ جب بھی وہ کسی ایسے گھر میں ٹھہرنا چاہتا جس کی حسان کی اشعار میں ہجو کی ہو تو وہ کعب بن اشرف کو اپنے گھر سے نکال دیتا تھا۔ یہاں تک کہ مکہ میں کعب کو کوئی گھر نہ ملا جو اس کو اپنے یہاں ٹھہرائے۔ اور حدیث میں ہے کہ سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے ایک سچی بات کہنا ہے (صفحہ 200)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader