ابن تیمیہ کی کتاب
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
اوپر کی سطریں ابن تیمیہ کی عبارت کا ترجمہ ہیں۔ ان باتوں کے تذکرہ کے بعد ابن تیمیہ نے اس سے جو نتیجہ نکالا ہے وہ عجیب و غریب طور پر بالکل غیر منطقی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب مشرکین کے شتم اور ہجو گوئی اور دین خداوندی کے اظہار اور اس کی طرف دعوت دینے کی بابت زبان سے جہاد کرنے کا معاملہ ایسا معاملہ ہے تو معلوم ہوا کہ جس (معاہد) شخص نے دین خدا اور رسول خدا پر شتم کیا اور اس کا اظہار کیا اور کتاب الہی کا ذکر کھلم کھلا برائی کے ساتھ کیا، تو اس نے مسلمانوں سے جہاد کیا اور ان پر زیادتی کی، اور یہ نقض عہد ہے (اس لیے وہ مباح الدم ہے) صفحہ 200۔ ابن تیمیہ کا مطلب یہ ہے کہ لفظی ہجو تیر سے بھی زیادہ سخت ہے۔ اس لیے اگر کوئی معاہد رسول کے خلاف گستاخی کرے تو اس نے تیر اور تلوار سے بھی شدید حملہ کیا۔ اس لیے اس کا عہد ٹوٹ گیا، اور اسی نقض عہد کی بنا پر وہ واجب القتل ہو گیا۔ ابن تیمیہ کو یہاں یہ کہنا چاہیے تھا کہ ”الفاظ“ کا حملہ ”تلوار“ کے حملے سے بھی زیادہ سخت اور زیادہ کارگر ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ الفاظ کا جواب الفاظ سے دیں۔ جو لوگ اسلام یا پیغمبر اسلام پر طعن کریں، نظم و نثر میں طاقتور جواب کے ذریعہ ان کے اٹھائے ہوئے فتنے کو منہدم کر دیا جائے۔ ہمارا ایسا کرنا سنتِ رسول کے عین مطابق ہوگا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اسی اصول پر عمل فرمایا۔ اور اپنے زمانہ کے ہم عصر شاتمین کا جواب حسّان بن ثابت سے شعر کی زبان میں دلوایا، جو گویا کہ اس زمانہ کی صحافت تھی۔ مگر ابن تیمیہ اس کے برعکس، عجیب و غریب طور اس سے یہ مسئلہ نکال لیتے ہیں کہ جس شخص نے اسلام پر الفاظ کے ذریعہ حملہ کیا، اس نے اسلام پر ایسا حملہ کیا جو تیر اور تلوار سے بھی زیادہ شدید تھا۔ اس لیے اس کی واحد سزا یہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ مذکورہ سنتِ رسول سے کم از کم جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ شتم رسول کی صرف ایک سزا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader