Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ابن تیمیہ کی کتاب

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں ہے کہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ اس سے زیادہ سخت اور کارگر سزا یہ ہے کہ اس کے الفاظ کا جواب طاقتور الفاظ سے دیا جائے۔ اس کے اشعار کو اشعار سے اور اس کی نثر کو نثر سے کاٹا جائے۔ اس کے سب وشتم کو دلائل کے ذریعہ ہَبَاءً مَّنْثُوراً“ (بے قیمت) بنا دیا جائے۔ ابن تیمیہ کا مذکورہ اندازِ کلام بڑا عجیب ہے۔ جس سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مخالفین اسلام کے الفاظ کا جواب الفاظ میں دینا چاہیے، کیونکہ جواب کا زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔ اسی سنت سے ابن تیمیہ یہ نکال رہے ہیں کہ شاتم کو قتل کر دو۔ کیونکہ اس نے اسلام پر تلوار کے حملہ سے بھی زیادہ بڑا حملہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب الفاظ کا جواب تیر و تلوار سے بھی زیادہ مؤثر ہے تو ہم بھی اپنے دفاع کے لیے اس زیادہ مؤثر ہتھیار کو کیوں نہ استعمال کریں۔ اس کے بجائے ہم اس ہتھیار کو استعمال کرنے کی طرف کیوں دوڑیں جو نسبتاً کم مؤثر ہتھیار کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیا اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جو تم پر سخت وار کرے، تم اس پر ہلکا وار کرو۔ 4۔ عبد اللہ بن ابی مدینہ کے منافقین کا سردار تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بدترین گستاخیاں کرتا تھا اور آپ کو اذیت پہنچاتا تھا۔ وہ اپنی آخری عمر تک ایذارسانی کا کام کرتا رہا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل نہیں کرایا۔ یہاں تک کہ ذوالقعدہ 9ھ میں وہ مدینہ میں اپنی طبعی موت مر گیا۔ عبد اللہ بن ابی کو قتل نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اس لیے اس کے قتل سے باز رہے کہ آپ کو اندیشہ تھا کہ اس کو قتل کرنے کے بعد لوگ اسلام سے دور ہو جائیں گے۔ کیونکہ اسلام اس وقت کمزور تھا: فَعُلِمَ أَنَّ مَنْ آذَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا الْكَلَامِ جَازَ قَتْلُهُ كَذَلِكَ مَعَ الْقُدْرَةِ ، وَإِنَّمَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَهُ لِمَا خِيفَ فِي قَتْلِهِ مِنْ نُفُورِ النَّاسِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page