ابن تیمیہ کی کتاب
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
عَنِ الإِسْلَامِ لَمَّا كَانَ ضَعِیفًا‘‘ (صفحہ 175)۔ ابن تیمیہ کے نزدیک عبداللہ بن ابی کے زمانہ میں اسلام کمزور تھا، اور قتل سے پیدا ہونے والے حالات پر قابو نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس ضعف کی بنا پر اس کھلے ہوئے شاتمِ رسول کو قتل نہیں کیا گیا۔ مگر ابن تیمیہ کی یہ تو جیہ مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے۔ صورتِ واقعہ یہ ہے کہ ہجرت کے پہلے سال مدینہ میں اسلام کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ ہجرت کے آٹھویں سال مکہ فتح ہوا۔ ہجرت کے نویں سال پورے عرب میں اسلام کا غلبہ قائم ہو گیا۔ اس وقت کم از کم ایک لاکھ جاں نثار صحابہ اسلام کی حمایت پر جمع ہو چکے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم جسدہ الشریف ابھی دنیا میں موجود تھے۔ آپ وہ پیغمبر تھے جن کی بابت قرآن کی گواہی ہے کہ اپنے مخالفین پر غلبہ ان کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے (58:21)۔ اور یہ کہ ان کا مولیٰ اللہ ہے۔ اور جبریل اور صالح اہل ایمان اور تمام فرشتے ان کے مددگار ہیں (66:4)۔ اب سوال یہ ہے کہ دورِ اوّل میں، مذکورہ تمام موافق حالات کے باوجود، آپ مستہزئین کو قتل کرنے سے باز رہے۔ تو آج وہ کیسے ممکن ہو جائے گا۔ جب پیغمبر خدا کی موجودگی میں اسلام کا حال یہ تھا کہ وہ ضعیف اور کمزور تھا اور اس بنا پر کھلے ہوئے گستاخ اور شاتم کو قتل نہ کیا جا سکا تو بعد کے زمانوں میں تو اسلام یقینی طور پر اس سے بھی زیادہ ضعیف اور کمزور ہوگا۔ ایسی حالت میں تو شاتمِ رسول کو قتل کرنے کی کوئی صورت ہی نہیں۔ پھر تو اس سزا کو ابدی طور پر منسوخ فرض کر لینا چاہیے۔ کیسا عجیب ہے علامہ ابن تیمیہ کا مذکورہ استدلال۔ اور کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اس قسم کے دلائل کو دلائل سمجھتے ہیں۔ اور ان کی بنیادی پر اس نظریہ کی وکالت کر رہے ہیں کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ شاتمِ رسول کو لازمی طور پر قتل کر دیں۔ خواہ یہ شاتم مسلم ہو یا غیر مسلم،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader