Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

خواہ وہ اسلامی حکومت کے تحت ہو یا غیر اسلامی حکومت کے تحت ، خواہ وہ ساتویں صدی عیسوی کا انسان ہو یا بیسویں صدی عیسوی کا انسان ۔ شاید موجودہ مسلمان اور ان کے رہنما اپنے آپ کو خدا اور ملائکہ سے بھی زیادہ طاقتور سمجھتے ہیں ۔ شاید ان کا خیال ہے کہ ان کی ذمہ داریاں اس سے بھی زیادہ ہیں جو معلوم طور پر رسول اور اصحاب رسول کی ذمہ داریاں تھیں ۔ یہ مسلمان جن کو ان کے نام نہاد رہنماؤں نے ”محتسب کائنات“ کے منصب بلند پر بٹھا رکھا ہے، ان کے احتساب کا اگلا مرحلہ شاید وہ آسمانی اقدام ہوگا جس کو ان کے محبوب شاعر نے ان شاندار لفظوں میں بیان کیا ہے : در دشت جنون من جبریل زبوں صیدے یز دان بہ کمند آور اے ہمت مردانہ یعنی ، میری دیوانگی کے صحرا میں جبریل ایک گرا پڑا شکار ہے ۔ اے ہمت مردداں ، یزداں (خدا) پر کمند ڈال ۔ ذاتی حق کا معاملہ نہیں سیرت اور حدیث کے موجودہ ریکارڈ میں بہت سے واقعات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں واضح طور پر آپ کے خلاف سب وشتم کا معاملہ کیا گیا۔ مگر آپ نے ایسے لوگوں کو معاف کر دیا۔ آپ نے ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانونی کاروائی نہیں کی۔ اس قسم کے واقعات صریح طور پر ابن تیمیہ اور ان کے ہم خیال لوگوں کے نظریہ کی تردید ہیں۔ یہاں ان لوگوں نے اپنے حق میں ایک جواب تلاش کر لیا ہے ۔ ابن تیمیہ اور دوسرے لوگ (مثلاً ابن قیم) نے لکھا ہے کہ شتم رسول کا مسئلہ حرمت رسول کا مسئلہ ہے (الصارم المسلول علی شاتم الرسول ، جلد 1، صفحہ 385 )۔ اس طرح وہ سب وشتم کے معاملہ کو حرمت رسول کا معاملہ قرار دے کر اس کو حقوق العباد کے تحت لائے ہیں۔ مگر یہ ان حضرات کی محض ذاتی تو جیہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page