Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ قرآن وحدیث میں اس کے حق میں کوئی واضح دلیل موجود نہیں۔ اور جب تک قرآن و حدیث کی واضح دلیل نہ ہو۔ اس کو حقوق العباد ، بالفاظ دیگر، ذاتی حق کے تحت نہیں لایا جاسکتا (صفحہ 219)۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام پر حملہ سادہ معنوں میں ان کی ذات پر حملہ نہیں، وہ براہ راست اسلام پر حملہ ہے اس طرح وہ ذاتی حق کے بجائے دفاع کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایک شخص اگر کہے کہ پیغمبر اسلام عادل نہیں تھے تو یہ آپ کے اوپر محض ایک شخصی حملہ نہیں ہوا۔ ایسا حملہ پورے قرآن اور پورے اسلام کو مشتبہ قرار دینے کے ہم معنی ہے۔ ایسی حالت میں وہ اس طرح ختم نہیں ہو سکتا کہ پیغمبر ذاتی طور پر اس کو معاف کردیں ۔ وہ معافی کے بعد بھی پوری طرح باقی رہے گا۔ چنانچہ پیغمبر اسلام کا طریقہ اس بارے میں یہ تھا کہ وہ ایسے شخص کو فکری اور نظریاتی طور پر قتل کرنے کی کوشش کرتے تھے، نہ یہ کہ اس کو جسمانی طور پر قتل کر کے یہ سمجھیں کہ اس کا چھیڑا ہوا فتنہ ختم ہو گیا۔ دفاع نہ کہ حد اس معاملہ میں ابن تیمیہ اور ان کے جیسے دوسرے لوگوں کی رائے قائم کرنے میں جو غلطی کی ہے، اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انھوں نے شتم رسول کے مسئلہ کو صرف حد یا نفاذ حد کا مسئلہ سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ دفاع کا مسئلہ ہے۔ شاتم دراصل اپنی شتم کے ذریعہ اسلام کی صداقت پر ایک قسم کا فکری حملہ کرتا ہے۔ اور جو حملہ فکری نوعیت رکھتا ہو، اس کا توڑ جوابی فکری یلغار ہی کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ تلوار کے ذریعہ شاتم کی گردن کاٹ دینے سے اس کا دفعیہ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، ابن تیمیہ نے خود اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مشرکین جب پیغمبر اسلام پر ہجو کرتے تھے تو حسان بن ثابت الانصاری جوابی ہجو کے ذریعہ آپ کی طرف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page