دفاع نہ کہ حد
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
سے اس کا دفاع کرتے تھے (کان صلی اللہ علیہ وسلم یقول لحسان بن ثابت : "اغْرُهُمْ وَغَازِرْهُمْ"، وكان يُنْصَبُ له منبر فی المسجد ينافح عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بِشِعْرِہ وہجائه للمشرکین۔ وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: "اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ". وقال: "إِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ مَا دُمْتَ تُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". وقال: "هِيَ أَنْكَى فِيهِمْ مِنَ النَّبْلِ" صفحه 206، مطبوعہ الریاض۔ مذکورہ الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ سب وشتم کا معاملہ اسلام پر ایک نظریاتی حملہ کا معاملہ ہے۔ اس کا صحیح اور کارگر توڑ یہی ہے کہ جوابی نظریہ سے اس کو غلط اور بے بنیاد ثابت کر دیا جائے۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے منافحت یا مدافعت کا مسئلہ ہے، نہ کہ عام معنوں میں سزائے شرعی کے نفاذ کا مسئلہ۔ یہ حقیقت ہے کہ طعن اسلام اور شتم رسول عام معنوں میں ایک قانونی جرم کا معاملہ نہیں ہے کہ مجرم کو ہلاک کر دینے سے اس کا ازالہ ہو جائے شتم رسول، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اسلام پر ایک فکری اور نظریاتی وار ہے۔ اور ایک نظریاتی وار کو جوابی نظریاتی وار کے ذریعہ ہی رد کیا جا سکتا ہے۔ فکری اور نظریاتی فتنہ کو اس طرح ختم نہیں کیا جا سکتا کہ بندوق ہاتھ میں لی جائے اور متعلقہ شخص کو گولی مار کر اس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ قاتل کو قتل کر کے قتل کا ازالہ ہو جاتا ہے مگر شاتم کے قتل سے شتم کا ازالہ نہیں ہوتا۔ شتم ایک ایسا مسئلہ ہے جو شاتم کے قتل کے بعد بھی بدستور باقی رہتا ہے۔ اور جب اصل مسئلہ بدستور باقی رہے تو ایک شخص کو قتل کر دینے سے کیا حاصل۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader